37

سفارتخانے کی ہدایت کے باوجود بیشتر فرانسیسی شہریوں کا پاکستان چھوڑنے سے انکار

پاکستان میں موجود فرانسیسی سفارتخانے نے اپنے شہریوں اور یہاں کام کرنے والے کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فی الحال پاکستان سے نکل جائیں تاہم ان ہدایات کے باوجود متعدد فرانسیسی شہری پاکستان چھوڑنے سے انکاری ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق رواں ہفتے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے ملک بھر میں فرانس مخالف پرتشدد احتجاج کے بعد فرانسیسی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری کیا۔تین سطروں پر مشتمل ای میل میں فرانسیسی سفارتخانے نے اپنے شہریوں اور پاکستان میں کام کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ عارضی طور پر پاکستان سے نکل جائیں کیوں کہ یہاں ’سنگین خطرات‘ موجود ہیں۔ای میل میں ان خطرات کی نوعیت بیان نہیں کی گئی تاہم اس کی وجہ سے پاکستان میں مقیم سیکڑوں فرانسیسی شہریوں میں سراسیمگی پھیل گئی ہے۔گزشتہ 3 برس سے اسلام آباد کے ’امریکن اسکول‘ میں فرنچ زبان سکھانے والے جین مائیکل کہتے ہیں کہ انہیں اس ہدایت نامے کے بارے میں ایک طالب علم نے بتایا اور وہ پہلے تھوڑے خوفزدہ ہوگئے تھے اور سوچا تھا کہ سامان باندھوں اور پاکستان سے نکل جائیں لیکن اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس صورتحال پر گفتگو کرنے کے بعد انہوں نے یہیں رکنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ’میرے ارد گرد موجود پاکستانیوں نے مجھے کہا کہ آپ مت جائیں ہم آپ کی حفاظت کریں گے، یہ یکجہتی دل کو چھو لینے والی تھی، لوگوں نے مجھ سے کہا کہ ہم ہیں آپ کے لیے آپ فکر مت کریں، ہم آپ کا دفاع کریں گے‘۔اے ایف پی نے جن فرانسیسی شہریوں سے رابطے کیے ان میں سے بیشتر نے فرانسیسی سفارتخانے کی جانب سے جاری ہدایت نامے کے وقت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ جب حکومت پاکستان نے ٹی ایل پر پابندی لگادی اور صورتحال قابو میں نظر آرہی ہے تب یہ ایڈوائزری جاری کی گئی۔
جین مائیکل نے کہا کہ ’یہاں رہنے میں خطرہ تو ہے لیکن اس طرح کے الفاظ استعمال کرکے فرانسیسی برادری میں افراتفری نہیں پھیلانے کی ضرورت نہیں تھی۔‘انہوں نے کہا کہ ہمیں حیرانی ہے کہ کیوں فرانس نے اس پیغام کو بین الاقوامی سطح پر جاری کیا حالانکہ یہ پیغام پاکستان میں موجود فرانسیسی کمیونٹی کو خاموشی سے بھی دیا جاسکتا تھا۔اس حوالے سے ایک اور فرانسیسی شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے بھی پاکستان نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی کمپنی کی جانب سے اپنا تبادلہ یورپ کے کسی ملک کرنے اور گھر کے باہر مسلح گارڈز تعینات کرنے کی پیشکش بھی مسترد کردی ہے۔ لاہور میں مقیم ایک اور فرانسیسی شہری کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 10 برس سے یہاں رہ رہے ہیں لہٰذا اس صورتحال میں وہ زیادہ پریشان نہیں ہوئے البتہ ان کی کمپنی نے انہیں پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا ہے جس کی وجہ سے وہ جارہے ہیں۔دو ماہ قبل پاکستان آئے ورلڈ بینک کے کنسلٹنٹ لارینٹ سائینوٹ کا کہنا ہے کہ اکتوبر نومبر سے اس معاملے میں صورتحال اوپر نیچے ہورہی ہے، تاہم خطرہ عام پاکستانیوں سے نہیں بلکہ صرف ٹی ایل پی سے ہے۔سائینوٹ کا کہنا ہے کہ سفارتخانے کا پیغام بدقسمتی سے پاکستان کا ایک اور منفی تاثر فرانس کے لوگوں کو پہنچائے گا، پاکستان اس کا مستحق نہیں، ایمانداری سے کہہ رہا ہوں کہ یہ ایک شاندار ملک ہے جہاں کے لوگ نہایت ہی شفیق ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں