36

مذاکرات ہی کرنے تھے تو کالعدم کیوں قرار دیا: شاہد خاقان

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ اگر تحریک لبیک سے مذاکرات ہی کرنے تھے تو پھر اسے کالعدم کیوں قرار دیا۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ لاہور میں جو ہوا اس کے حقائق سامنے نہیں آ سکے، حکومت نے کیا وعدے کیے، کیا دعوے ہوئے کچھ پتہ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات ہی کرنے تھے تو پھر تحریک لبیک کو کالعدم کیوں قرار دیا، جمہوریت میں یہ عمل نہیں ہوتے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم میں ہمت تھی تو پارلیمنٹ میں تقریر کرتے، ایک دم قومی اسمبلی کی دو دن کی چھٹی کر دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ دارالحکومت میں کنٹینر رکھے ہوئے ہیں، یہ کس بات پر خوفزدہ ہیں، ہر پاکستانی سوال کر رہا ہے کہ ملک میں انتشار کیوں ہے؟انہوں نے کہا کہ مظاہرین کہہ رہے ہیں کہ سفیر کو نکالنے کا وعدہ کیا گیا تھا، یہ وعدہ کس نے کیا؟ جس کی ذمہ داری ہے وہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم خود کہہ رہے ہیں کہ ذمہ دار وہ ہیں، وہ کام کر رہے ہیں، فیض آباد میں جو کچھ ہوا اس کے حقائق بڑے تلخ ہیں، اس سے سبق لینا چاہیے، حقائق عوام کے سامنے رکھیں، اس کا واحد طریقہ ٹرتھ کمیشن ہے، وزیروں کو آگے پیچھے کرنے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں