27

کورونا سے بھارت جیسے حالات ہوئے تو شہر بند کرنا پڑیں گے: وزیراعظم

وزیراعظم نے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایس او پیز پر ٹھیک طریقے سے عمل کیا تو شہروں میں لاک ڈاؤن نہیں کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ میں نے فوج کو کہا ہےکہ ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے ہماری فورسز کے ساتھ سڑکوں پر آئے، ہم اب تک لوگوں کو ایس او پیز پر چلنے کا کہتے رہے ہیں لیکن لوگوں میں کوئی خوف نہیں اور کوئی احتیاط نہیں کررہے، اس لیے فوج کو پولیس اور فورسز کی مدد کرنے کا کہا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا سے سب سے بڑی احتیاط ماسک ہے، اس سے آدھا مسئلہ حل ہوجاتا ہے، اس لیے سب ماسک پہنیں، اس کے لیے اب ہم پوری طرح زور لگائیں گے، ہماری پولیس زور لگائے گی اور اس پر فوج بھی اس کی مدد کرے گی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ عوام کی احتیاط کی وجہ سے وبا رک سکتی ہے، جب تک قوم مل کر مقابلہ نہیں کرے گی تو وبا سے نہیں جیت سکتے، پچھلی بار رمضان سے پہلے جس طرح قوم نے ایس او پیز پر عمل کیا شاید اس وقت زیادہ خوف تھا، لگتا ہے اب لوگ تھک گئے ہیں لیکن اُ س وقت اور اب میں زمین آسمان کا فرق ہے، اب ہم سختی کریں گے، امید رکھتا ہوں اگر آپ ایس او پیز پر عمل کریں گے تو ہمیں شہروں کا لاک ڈاؤن نہیں لگانا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن ہمارے ہاں وہ حالات نہیں جو بھارت میں ہیں، بھارت جیسے حالات ہوگئے تو شہر بند کرنا پڑیں گے کیونکہ بھارت میں آکسیجن کی کمی ہوگئی ہے، مجھے لوگ آج کہہ رہے ہیں لاک ڈاؤن کردو مگر لاک ڈاؤن اس لیے نہیں کررہا کیوں کہ غریب مزدور طبقہ متاثر ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری مساجد میں ایس او پیز پر عمل ہوا اور ہماری مساجد سے کورونا نہیں پھیلا لیکن مجھے افسوس ہے کوئی احتیاط نہیں کررہا ہے، کوئی ایس او پیز پر عمل نہیں کررہا ہے، ہم نے احتیاط نہیں کی تو لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا، لاک ڈاؤن سے معیشت کو نقصان پہنچے گا، دکانداروں، فیکٹریوں کو نقصان پہنچے گا اور سب سے زیادہ نقصان غریب طبقے کو ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں