36

کیکر تے انگور چڑھایا

یہ ان دنوں کی بات ہے جب خودساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکمرانی کا چراغ بجھنے کے قریب تھا۔گورنر مغربی پاکستان جنرل موسیٰ خان ایک پولیس افسر کے ہمراہ ایوب خان سے ملنے آئے۔ پولیس افسر جو دراصل ڈی آئی جی کراچی تھے ، انہوں نے ایک ایسا انکشاف کیا کہ ایوب خان کے پیروں تلے سے زمین سرک گئی۔

آڈیو ٹیپ اور دیگر ناقابل تردید شواہد کی روشنی میں بتایا گیا کہ نیوی کے چند افسروں نے ایوب خان کا تختہ اُلٹنے کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔ ڈی آئی جی کو ذاتی ذرائع سے معلوم ہوا کہ گجرات سے تعلق رکھنے والا ایک پیٹی آفیسر فیض حسین جو کراچی میں تعینات تھا، اس منصوبے کا سرغنہ ہے۔ منصوبہ یہ تھا کہ ایوب خان کو قابو کرنے کے بعد زبردستی مارشل لا لگانے پر مجبور کیا جائے اور پھر جنرل اعظم خان کو گورنر مشرقی پاکستان، مولوی فرید کو گورنر مغربی پاکستان اور جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی کو وزیر قانون بنا دیا جائے۔

مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے ڈی آئی جی نے ایک کانسٹیبل حبیب خان کو معمولی وجوہات کی بنیاد پر معطل کرکے پیٹی آفیسر فیض حسین کے بااعتماد ساتھیوں میں شامل کروا دیا ۔ منصوبہ مکمل کرنے کے لئے کسی ایسے سیٹھ کی تلاش تھی جو 3سے 4 لاکھ روپے کا چندہ دے سکے ۔ ایک پولیس افسر کو سیٹھ کے روپ میں سامنے لایا گیا تو تمام تر تفصیلات نہ صرف سامنے آگئیں بلکہ ریکارڈنگ کی صورت میں ثبوت بھی ہاتھ آگئے۔

گفتگو کے دوران فیض حسین رحمانی نے بتایا کہ ایوب خان جب مچھلیاں پکڑنے کے لئے گہرے پانی میں آئے تو تب انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا مگر بوجوہ اس منصوبے پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔ فیض حسین رحمانی اس قدر جذباتی شخص تھا کہ اس نے ایک بار ماؤنٹ بیٹن کا گلا کاٹنے کا منصوبہ بھی بنایا مگر دوستوں نے اسے یہ سب کرنے سے روک دیا۔

ناکام فوجی بغاوت کے منصوبے میں شامل 6 مرکزی کرداروں کو کراچی پولیس نے گرفتار کر لیا۔ وہ پولیس افسر جو اس منصوبے کا سراغ لگانے کے بعد ایوب خان کے منظور نظر ہو گئے ان کا نام ڈی آئی جی اللہ نواز خان ترین ہے اور یہ ان دنوں سیاست کے اہم کردار جہانگیر ترین کے والد ہیں۔

ایوب خان نے اپنی کتاب Diaries of Field Marshal Ayub Khanکے صفحہ نمبر 98,99 پر نہ صرف اس واقعہ کی تفصیل بیان کی ہے بلکہ ڈی آئی جی اللہ نواز ترین کی تعریف بھی کی ہے۔ ایوب خان لکھتے ہیں کہ ’’ڈی آئی جی ترین اور ان کے ساتھیوں نے زبردست کام کیا جبکہ نیول انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی سو ئی رہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم انٹیلی جنس کے کام میں ابھی طفل مکتب ہیں۔‘‘

ڈی آئی جی اللہ نواز ترین کی زمین تربیلا کے مقام پربننے والے ڈیم کی زد میں آگئی تو حکومت نے لودھراں میں متبادل زمین الاٹ کر دی۔ جب ایوب خان کی جگہ تازہ دم ڈکٹیٹر یحییٰ خان نے عنان اقتدار سنبھالی تو ڈی آئی جی اللہ نوازترین کے برے دن شروع ہوگئے۔جن 300 سرکاری افسروں کو برطرف کرنے کا فیصلہ ہوا، ان میں ترین کا نام بھی شامل تھا۔اللہ نواز ترین نے ریٹائرمنٹ کے بعد کاشتکاری شروع کر دی۔

ان کا ہونہار بیٹا جہانگیر ترین میدان سیاست کے بڑے ناموں کا ہم عصر تھا۔ مثال کے طور پر جہانگیر ترین 4جولائی1953 ء کو پیدا ہوئے تو میاں شہباز شریف نے 1951ء میں جنم لیا، عمران خان 1952ء میں پیدا ہوئے ، اعجاز الحق نے اسی سال یعنی 1952ء میں آنکھ کھولی، چوہدری نثار 1954ء میں پیدا ہوئے ، ہمایوں اختر خان کی پیدائش 1955ء میں ہوئی جبکہ جہانگیر ترین کے سب سے بڑے سیاسی حریف شاہ محمود قریشی جہانگیر ترین کی پیدائش کے 8 سال بعد دنیا میں آئے۔

جہانگیر ترین کو ان کے والد نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر امریکہ بھیجا جہاں انہوں نے نارتھ کیرولینا یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔ پاکستان واپس آکر جہانگیر ترین نے پنجاب یونیورسٹی میں بطور لیکچرر ملازمت اختیار کرلی اور پھر ایک بینک اکاؤنٹس آفیسر کے طور پر کام کرنے لگے۔ ایک دن اس نوکری سے دل اُکتا گیا تو لودھراں جا کر باپ سے کہا کہ میں کاشتکار ی کروں گا۔ باپ نے پوچھا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ؟کسی سے لڑائی ہوئی ہے کیا؟ ظاہر ہے امریکہ سے پڑھ کر آنے والا بچہ نوکری کرنے کے بجائے فارم ہاؤس سنبھالنے کی بات کرے تو حیرت ہوتی ہے۔ باپ نے بہت سمجھانے کی کوشش کی لیکن بیٹے کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے۔

والد کے 400 ایکٹر کے زرعی فارم سے کاشتکاری شروع کی۔ اس دوران محکمہ جنگلات نے لودھراں اور بہاولپور میں زمینیں فوج کو دیدیں تو یہ رقبہ فوجی افسروں کو الاٹ ہونے لگا۔جب کوئی الاٹمنٹ کے بعد ویران اور بیابان رقبہ دیکھنے میں آتا تو جہانگیر ترین اونے پونے داموں یہ زمین خرید لیتے۔ اس دوران رحیم یار خان کے مخدوم خاندان میں جہانگیر ترین کا رشتہ ہوگیا اور وہ مخدوم احمد محمود کے بہنوئی بن گئے۔ برادرِ نسبتی سے ملکر کاروبار کرنے پر ایک مرتبہ باپ سے ناراضی بھی ہوئی مگر جہانگیر ترین کی کاروباری سلطنت بتدریج پھیلتی چلی گئی۔

1997ء میں شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب بنے تو جہانگیر ترین کو پنجاب ٹاسک فورس آن ایگری کلچر کا چیئرمین بنا دیا لیکن تب تک کسی کو معلوم نہ تھا کہ جہانگیر ترین ایک روز سیاست کے بادشاہ گر بنیں گے۔ جس طرح اللہ نواز ترین کی قسمت کا ستارہ ایوب خان کے دور میں چمکا تھا اسی طرح جنرل پرویز مشرف کے دور میں جہانگیر ترین کی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔

مخدوم احمد محمود ڈگری کی شرط کے باعث الیکشن نہ لڑ سکے تو جہانگیر ترین کو رحیم یار خان سے ایم این اے بنوادیا گیا۔ مشرف دور میں جہانگیر ترین صنعت و پیداوار کے وزیر بن گئے۔ 2011ء میں انہوں نے ایک الگ دھڑا بنایا، اپنی پارٹی بنانے کا سوچ رہے تھے مگر پھر کچھ سوچ کرپی ٹی آئی میں آئے اور چھاگئے۔ طویل اتار چڑھاؤ کے بعد ان کے تعلقات عمران خان سے کشیدہ ہیں۔ ان کے والد زندہ ہوتے تو یقیناً نصیحت کرتے کہ محکوموں اور مجبوروں پر انحصار کرنے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔ میاں محمد بخشؒ کے الفاظ مستعار لیں تو

نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نئیں پایا

کیکر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں