30

عمران الیون اور امپائر کی اُنگلی

کرکٹ پاکستانی قوم کا پسندیدہ ترین کھیل ہے اتنا پسندیدہ کہ بظاہر کرکٹ اور سیاست میں کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود قوم نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کو سیاسی لیڈر تک بنا ڈالا۔

عام طور پر ذہنی کام کرنے والے یعنی قانون دان، دانشور اور آرٹسٹ تو کامیاب سیاستدانوں کی صف میں نظر آتے ہیں لیکن جسمانی مشقت کرنے والے یعنی کھلاڑی اور فوجی وغیرہ آج کے اسپیشلائزڈ دور کی حسّاس اور ٹیکنیکل سیاست میں بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔

خیر یہ کرکٹ سے غیر معمولی لگاؤ کی وجہ ہی تھی کہ فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء نے بھی ’’کرکٹ ڈپلومیسی‘‘ کے ذریعے بھارت سے رابطے کیے۔ اسی طرح 92 کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد عمران خان نے بھی اپنی مقبولیت کو سیاست کے میدان میں کیش کرانے کی کوشش کی جو تقریباََ 17 سال تک کامیاب نہ ہوئی اور 1996سے 2013 تک انہیں چند سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی، غالباً عوام کی اکثریت کو انکی سیاسی سوجھ بوجھ اور قابلیت پر بھروسہ نہیں تھا۔

انڈیا میں اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے اپنی اس ناکامی کا ذمہ دار پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ٹھہرایا اور واضح طور پر کہا کہ پاکستان میں کوئی جماعت اس وقت تک انتخابات میں کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک اسٹیبلشمنٹ اس کے ساتھ نہ ہو۔ جبکہ بقول جنرل پرویز مشرف عمران خان اُن سے اپنے حصّے سے بہت زیادہ سیٹیں مانگ رہے تھے۔

یہ الگ بات ہے کہ 2018 میں کامیاب ہونے کے بعد اپنی کامیابی کے بارے میں ان کی رائے تبدیل ہوگئی لیکن اپوزیشن کی رائے وہی رہی اور وہ انہیں ’’سلیکٹڈ‘‘ وزیرِ اعظم کہنے لگی۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ انتخابات میں عمران خان کی کامیابی کا معیار کسی طرح بھی جنرل ایوب خان کے صدارتی انتخابات، جنرل یحییٰ خان کے 30 مارچ 1970کے لیگل فریم ورک آرڈر اور جنرل ضیاء اور جنرل پرویز کے ریفرنڈمز سے مختلف نہ تھا۔

کے ایک لیجنڈ کھلاڑی ہونے کے ناطے سے عمران خان نے اپنی سیاست میں کرکٹ کی کئی اصطلاحات متعارف کرائیں مثلاََ کپتان، باؤنسر، ایل بی ڈبلیو اور امپائر کی انگلی وغیرہ۔ جب وہ کہتے تھے کہ بس اب امپائر کی انگلی کھڑی ہونے والی ہے تو ان کا واضح اشارہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف ہوتا تھا۔

اس سے پہلے امپائر کی انگلی کے حوالے سے مشہور کارٹونسٹ جاوید اقبال نے 1977 میں ایک کارٹون بنایا تھا جب جنرل ضیاء نے بھٹو حکومت کا تختہ اُلٹ کر اکتوبر 1977 میں انتخابات کرانے کا وعدہ کیا تھا جو کبھی پورا نہ ہو سکا ان دنوں بھٹو صاحب جیل میں تھے اور ان کے سیاسی حریف آزادانہ طور پر اپنی انتخابی مہم چلارہے تھے۔

اس کارٹون میں زنجیروں میں جکڑا ہوا ذوالفقار علی بھٹو بیٹنگ کر رہا ہوتا ہے، قومی اتحاد کے لیڈر باؤلنگ کروا رہے ہوتے ہیں اور جنرل ضیاء امپائر کی حیثیت سے انگلی کھڑی کئے بھٹو کو آؤٹ قرار دے رہا ہوتا ہے۔

تقریباََ وہی صورتِ حال گزشتہ انتخابات کے دوران دیکھنے میں آئی۔ نجانے وہ کون سی مصلحتیں اور مجبوریاں تھیں کہ امپائرز کو نہ صرف اس عمران خان کے حق میں اپنی انگلی کھڑی کرنی پڑی جس نے ان کے خلاف سخت اور کڑی زبان استعمال کی تھی بلکہ گزشتہ تین سالوں میں اسے بار بار آؤٹ ہونے سے بچانا بھی پڑا۔

عمران الیون کی سیاسی ٹیم تحریک ِ انصاف نے اقتدار میں آنے سے پہلے کوہِ ہمالیہ سے بھی بلند و بالا دعوے کیے۔ کہا گیا پہلے سو دنوں میں ہی کرپشن کا خاتمہ کر دیں گے۔ مہنگائی کا نام و نشان تک مٹا دیں گے۔ امن و امان کو مثالی بنا دیں گے۔ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دیں گے۔

صحت اور تعلیم مفت کر دیں گے، گرین پاسپورٹ کو دنیا میں اعلیٰ مقام دلائیں گے۔ لوگ باہر سے نوکریاں کرنے پاکستان آئیں گے۔ مگر ہوا کیا؟ زلفی بخاری ، شہباز گلِ اور حفیظ شیخ جیسے لوگ تو بیرونِ ملک سے نوکریاں کرنے آگئے مگر پاکستان میں رہنے والے ایک کروڑ نوکریاں حاصل کرنے کی بجائے لاکھوں کی تعداد میں بیروزگار ہوگئے۔ ہر ادارہ تباہ و برباد ہوگیا۔

آزادیٔ اظہار پر بدترین پابندیاں لگا دی گئیں۔ 5.8 جی ڈی پی کی شرح پر ترقی کرتا ہوا پاکستان منفی اعشاریہ چار پر چلا گیا۔ کرپشن میں 7 درجے اضافہ اور گرین پاسپورٹ کی قدر میں چار درجے کمی ہو گئی۔ معیشت یوں تباہ حال ہوئی کہ 71 سالوں میں جتنی مہنگائی ہوئی صرف تین سالوں میں اس میں چار گنا اضافہ ہوگیا۔

مودی نے کشمیر کو بھارت میں ضم کردیا اور ناکام خارجہ پالیسی نے پاکستان کو اس کے روایتی دیرینہ دوستوں سے بھی محروم کردیا۔ فرقہ وارانہ تنظیموں کے ساتھ پہلے اظہارِ یک جہتی اور پھر غیر دانشمندانہ معاہدوں نے امن و امان کی سنگین صورتِ حال پیدا کردی۔

اپوزیشن کے خلاف نفرت انتقام اور گالی گلوچ کی سیاست نے ملک کو شدید سیاسی عدم استحکام سے دوچار کردیا ہے پاکستان خطے کا سب سے زیادہ شورش زدہ اور پسماندہ ترین ملک بن چکا ہے۔

اچھی ٹیم بنانے کے ماہر ہونے کے دعویدار عمران خان کی سیاسی ٹیم اور کپتانی ابھی تک ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ لگتا ہے ملک پانچ سالہ ٹیسٹ میچ کی طرح کھلاڑی بدل بدل کر چلایا جا رہا ہے۔ کرکٹ کی زبان میں عمران خان بوکھلاہٹ میں کئی مرتبہ ’’ہٹ وکٹ‘‘ ہو چکے ہیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری نے انہیں ہر بال پر ’’کلین بولڈ‘‘ کردیا ہے۔ بیڈ گورننس کے ہاتھوں وہ بار بار ’’کیچ آؤٹ ‘‘ ہورہے ہیں۔

اور اپنی ہر ناکامی کو پچھلی حکومتوں پر ڈالنے کے دعوے انہیں متواتر ’’ ایل بی ڈبلیو‘‘کر رہے ہیں۔ تماشائی کھلاڑی نما سیاسی اناڑی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔

مگر حیرت انگیز طور پر ابھی تک امپائر کی انگلی حرکت میں نہیں آئی ۔اگر امپائر کی انگلی نہ اٹھی تو کیا بعید کہ کہیں امپائر پر ہی انگلیاں اٹھنی شروع ہو جائیں۔

اس لیے امپائر کو بہر صورت اپنی ’’غیر جانبداری ‘‘ ثابت کرنی چاہیے۔ کیونکہ امپائر کے اوپر بھی ایک امپائر ہے اور وہ ہے تاریخ کی عدالت۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں