32

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نظرثانی کیس میں سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

جسٹس فائز عیسیٰ نظرثانی کی تمام درخواستیں چھ چار کے تناسب سے منظور ہوئیں جبکہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی انفرادی درخواست 5 ججز نے منظور اور 5 نےخارج کی۔تحریری حکم نامے میں معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم کالعدم قرار دیا گیا جبکہ ایف بی آر کی تحقیقات بھی کالعدم قرار دی گئیں۔تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر رپورٹ کی بنیاد پرسپریم جوڈیشل کونسل بھی کارروائی نہیں کرسکتی۔اکثریتی فیصلے کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں تمام نظرثانی اپیلیں منظور کی جاتی ہیں، سپریم کورٹ کا 19جون 2020 کا مختصر فیصلہ خارج کیا جاتا ہے اور سپریم کورٹ کے 19 جون 2020 کے فیصلے کے بعد کی تمام تحقیقات کالعدم قراردی جاتی ہیں۔اکثریتی فیصلے میں ایف بی آر کی تمام رپورٹس، مواد،فیصلہ اوراقدامات قانون کے دائرے سے خارج قرار دیا گیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق ایف بی آر کی رپورٹ، مواد، فیصلے یا اقدامات پرسپریم جوڈیشل کونسل یاکوئی ادارہ کارروائی نہیں کرسکتا۔جسٹس عمرعطا بندیال، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی محمد امین نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ
تحریری حکم میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی انفرادی درخواست خارج کی اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے دیگر تمام نظرثانی درخواستوں کی حمایت کرتے ہوئے اضافی نوٹ لکھا۔اضافی نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے کہ 19جون اور23 اکتوبر2020 کےسپریم کورٹ کے فیصلوں پرتحقیقات غیرقانونی ہیں، ایف بی آر کے تمام اقدامات، تحقیقات اور رپورٹس غیرقانونی قرار دی جاتی ہیں۔واضح رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ سنایا، بینچ میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس مظہرعالم خان میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس قاضی محمد امین اور جسٹس امین الدین خان بھئ لارجر بینچ کا حصہ تھے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظر ثانی کی درخواست 6، 4 کے اکثریتی فیصلے سے منظور کرتے ہوئے کیس کا مختصر فیصلہ سنایا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں