30

مریم کی نیب کی ضمانت منسوخی کی درخواست جرمانے کیساتھ مسترد کرنے کی استدعا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی ضمانت منسوخی کی درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کرنے کی استدعا کردی۔مریم نواز کے وکلاء اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز نے ہائیکورٹ میں جواب جمع کروادیا جس میں کہا گیا ہے کہ کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لہٰذا نیب کی درخواست ناقابل سماعت ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب کی ضمانت منسوخی کی درخواست مذموم مقاصدکی تکمیل ہے، 10 جنوری 2020 کے کال اپ نوٹس کےتحریری جواب کے بعد نیب خاموش ہوگیا، 14 ماہ کی خاموشی کے بعد مریم کی ضمانت منسوخی کیلئے نیب کی درخواست مذموم مقاصدعیاں کرتی ہے۔جواب کے مطابق نیب نے غلط بیانی کی کہ مریم نواز نے6 اگست 2020 کا جواب نہیں دیا، سچ تو یہ ہے کہ نیب نے 6 اگست 2020 کا کال اپ نوٹس واپس لے لیا، مریم نواز بلا امتیازاحتساب، اداروں کی آزادی اور قانون کی پیروی پر یقین رکھتی ہیں۔
جواب میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ نیب کو حزب اختلاف کے خلاف پولیٹیکل انجینئرنگ کیلئے بطور آلہ استعمال کیا جارہا ہے، نیب کی ضمانت منسوخی کی درخواست میں جھوٹے الزامات عائد کیے گئے، نیب کی جانب سے حقائق کو مسخ کرکے دانستہ غلط انداز میں پیش کیا گیا، نیب کے الزامات عکاسی کرتے ہیں کہ جیسے چیئرمین نیب حکومت کے ترجمان ہوں۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نیب کی ضمانت منسوخی کی درخواست جرمانے کیساتھ مسترد کی جائے۔دوسری جانب جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل دو رکنی بینچ کل نیب کی مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں