30

موت بانٹتی ہوئی لہر

قریباً ڈیڑھ سال سے دنیا میں ایک ہی موسم کا چرچا ہے، یہ کورونائی موسم ہے۔ ابھی پہلی لہر ختم نہیں ہوئی تھی کہ دوسری لہر آ گئی، ابھی دنیا موت بانٹتی ہوئی دوسری لہر دیکھ رہی تھی کہ تیسری کا ذکر آ گیا۔

پوری دنیا غم سے نڈھال ہے صرف اسرائیل میں خوشی سے ماسک پھاڑ دیے گئے ہیں، یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پوری آبادی کو ویکسین لگا دی گئی ہے۔ بھارت میں کورونا نے زندگی کو موت کی کشتی پر سوار کر دیا ہے۔

بھارت میں بری صورتحال ہے تو باقی دنیا میں بھی سکھ نہیں ہے۔ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے سینئر بیورو کریٹ شاعر حسن بیگ نے اپنی تازہ نظم ’’ریزہ ریزہ خواب‘‘ میں بہت کچھ بیان کیا ہے۔ حسن بیگ کی یہ نظم آپ کی نذر کر رہا ہوں ؎

میرے خوابوں میں خیالوں کی حسیں دنیا تھی

کچھ پھول سے چہرے پہ حسیں آنکھیں تھیں

کچھ نرگسی آنکھوں میں بڑے چشمے تھے

کچھ ریشمی ہاتھوں میں سجے گجرے تھے

رس گھولتے کانوں میں بھی کچھ نغمے تھے

سانس کی آنچ پہ رکھے ہوئے لب گویا تھے

نکلتے ہوئے سورج کی بھی کچھ کرنیں تھیں

ذہن میں نیویارک تھا، ویگاس تھا، پیرس بھی

بار سلونا بھی مرے ذہن میں تھا، وینس بھی

ذہن میں لندن تھا، روم بھی، برلن بھی

بیجنگ تھا خیالوں میں، سڈنی بھی، ویلنگٹن بھی

کشمیر کی وادی تھی خواب میں لاہور بھی تھا

ہوتے ہوئے دہلی سے کہیں تاج محل باقی تھا

میرے خواب نے جب آ کے جگایا مجھ کو

کھل گئی آنکھ تو سب خواب تھے ریزہ ریزہ

اب خوابوں میں خیالوں کی کوئی دنیا ہے

نہ پھول سے چہرے پہ حسیں آنکھیں ہیں

نہ کوئی ریشمی ہاتھوں میں سجے گجرے ہیں

نہ رس گھولتے کانوں میں کہیں نغمے ہیں

سانس کی آنچ پہ رکھے ہوئے لب گویا ہیں،

نہ ابھرتے ہوئے سورج کی کوئی کرنیں ہیں

دنیا کے ہر شہر میں، ہر گھر میں وبا پھیلی ہے

وہ لندن ہو، کہ پیرس ہو، کہ وینس کوئی

وہ لاہور ہو، بیجنگ ہو، کہ نیویارک یہاں

وہ دلی ہو، کہ بمبے ہو ، کہ احمد آباد

ایسا کوئی ہر ملک کا ہر شہر یہاں بندا ہوا

ایسا ہوا ہر ملک کے ہر شہر میں ماتم برپا

نہ تدفین کو قبریں ہیں نہ جلانے کو چتا

یہ عجب کوئی وبا ہے جو بتاتی بھی نہیں

کچھ سنتی بھی نہیں اور سناتی بھی نہیں

کچھ کہتی بھی نہیں، شہر سے جاتی بھی نہیں

حسن بیگ نے دنیا بھر کے درد کو لفظوں کا لباس پہنایا ہے، ہر کوئی دکھی ہے، ہر کوئی پریشان ہے، جنوبی ایشیائی ملکوں میں تو لوگ احتیاط سے بھی گریزاں ہیں۔ بھارت جہاں موت گلیوں میں بلا بن کے پھر رہی ہے،

وہاں پچھلے ہفتے ہمالیائی ریاست اتراکھنڈ کے شہر ہردوار یعنی الٰہ آباد میں مذہبی تہوار کمبھ کامیلہ ہوا، جہاں گزشتہ پیر کے دن میلے میں دوپہر تک 21لاکھ افراد گنگا نہا چکے تھے۔ ہندو عقیدے کے مطابق گنگا گناہوں سے پاک کر دیتا ہے۔ بھارت میں کسی نے سوچا ہی نہیں کہ گناہوں سے پاک ہونے کے چکر میں لاکھوں افراد نے موت کو گلے لگا لیا اور لاکھوں افراد موت کے پیغام رساں بن کر پورے بھارت میں پھیل گئے۔

اس میلے میں کروڑوں افراد شریک ہوتے ہیں۔ گنگا اور جمنا کے سنگم پر ہونے والے کمبھ میلے کو ہندو مت میں خاص حیثیت حاصل ہے۔ اس میلے کے تین مقامات ہیں الٰہ آباد یعنی ہردوار یا پریا گراج، نمبر دو ناسک، ترمبک اور نمبر تین اوجین سنھشٹ۔ اس میلے میں لوگ زعفرانی یعنی کیسری رنگ کا لباس پہنتے ہیں۔ کورونا کے باعث اس اجتماع کو منسوخ کیا جاتا تو بہتر تھا مگر اس سال بھی کمبھ میلہ جاری ہے، ہندو سادھوؤں نے پورے ہندوستان میں کورونا کا پیغام پہنچا دیا ہے۔

دو ماہ تک جاری رہنے والے اس میلے میں منگل اور بدھ کے دو دن انتہائی مقدس تصور کئے جاتے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق گزشتہ بدھ کی سہ پہر تک 9 لاکھ افراد نے گنگا اشنان کیا۔ میلے کی اجازت دینے پر ہندوستان میں تنقید بھی ہو رہی ہے۔ جاپان اور برطانیہ کے وزرائے اعظم بھارت آرہے تھے مگر اب دونوں نے دورے منسوخ کر دیے ہیں۔

ڈبل میوٹینٹ کورونا کے سامنے ہندوستان کا ہیلتھ سسٹم جواب دے گیا ہے۔ 14 ہندو گروپوں کی تنظیم نریندر گری کے سربراہ کو بھی کورونا ہو گیا ہے۔ اتر پردیش کے سابق وزیراعلیٰ اکلیش یادیو اور موجودہ وزیراعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ کو بھی کورونا ہو گیا ہے۔ بھارت کی دو ریاستوں میں مہاراشٹرا اور اتر پردیش میں کورونا کی وبا زیادہ پھیلی ہے۔

مہاراشٹرا کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے پریشانی کے عالم میں کہا ہے کہ ہنگامی سہولیات بھی صرف15دن چل سکتی ہیں۔ بھارت میں مودی سرکار کی دو رخی پالیسی پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سکھوں کے لئے دربار صاحب کرتار پور کی یاترا بند کر رکھی ہے، مسلمانوں کی تبلیغی جماعت کے رہنماؤں پر مقدمات بنا رکھے ہیں مگر انہی حالات میں ہندوؤں کے لئے کمبھ میلے کی اجازت دے دی گئی۔ اس بے احتیاطی نے پورے بھارت کو کورونا میں جھونک دیا ہے۔

کول کتہ، دہلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں کی ہر گلی میں موت کا پیغام دستک دے رہا ہے۔ کانپور اور احمد آباد سمیت راج کوٹ میں بھی کورونا نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ نریندر مودی کے انتخابی حلقے کے شہر ورانسی میں بھی تباہی پھیلی ہوئی ہے۔

لکھنؤ اور الہ آباد میں بھی کورونا کی تباہیاں نظر آ رہی ہیں۔ اسپتالوں کے بعد شمشان گھاٹ اور قبرستان بھی جواب دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انڈیا میں حالات کنٹرول سے باہر ہو چکے ہیں، ہمیں بھی اس وبا سے بچنے کے لئے احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ بقول گلزارؔ

بے وجہ گھر سے نکلنے کی ضرورت کیا ہے

موت سے آنکھیں ملانے کی ضرورت کیا ہے

سب کو معلوم ہے باہر کی ہوا قاتل ہے

یونہی قاتل سے الجھنے کی ضرورت کیا ہے

کورونا جیسی جان لیوا وبا سے جس قدر بچا جا سکے، اتنا ہی بہتر ہے، بعض لوگ اسے اب بھی مذاق سمجھ رہے ہیں، یہ کیسا مذاق ہے کہ جس نے دنیا کو بدل دیا ہے بلکہ ڈی جی خان کی شاعرہ ایمان قیصرانی کے بقول

ہنسنے رونے سے گئے، ربط بڑھانے سے گئے

ایسی افتاد پڑی، سارے زمانے سے گئے

وہ تعفن ہے کہ اس بار زمیں کے باسی

اپنے سجدوں سے گئے، رزق کمانے سے گئے

دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو

کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں