30

‘جانتے ہیں کورونا موذی مرض ہے لیکن فاقےکا خوف زیادہ ہے’

کورونا کی تیسری لہر نے جہاں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو متاثر کیا ہے وہیں دیہاڑی دار مزدور بھی کورونا کی زد میں آئے ہیں۔صبح ہوتے ہی پشاور کے چوک فوارہ، گھنٹہ گھر ،پیپل منڈی اور اشرف روڈ سمیت دیگر بازاروں چوراہوں کا رخ کرنے والے مزرودروں کی پریشانی ہے کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ان کا کہنا ہے کہ روزانہ دس روپے کا ماسک اس وقت ہی خریدیں گے جب انھیں مزدوری ملے ماسک نہ لگانے پر پولیس اور انتظامیہ کے خوف سے جگہیں بدلتے رہتے ہیں۔مزدور کہتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ کورونا موذی مرض ہے، اس کے لیے ماسک سمیت دیگر ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ضروری ہے تاہم فاقے کا خوف کورونا سے زیادہ ہے، کام کب ملے گا بچوں کے لیے کتنا کمالیں گے بس یہی سوچ ان کو الجھن میں ڈالے ہوئے ہے۔چار، پانچ سو کی مزدوری کے لیے سرگرداں مزدوروں کو نہ موسم کی پرواہ ہے نہ کورونا کا ڈر، بس فکر ہے تو اس کی کہ آج تو دیہاڑی لگ جائے۔
مزدورں نے جیونیوز کو بتایا کہ وہ مالی مشکلات کا شکار ہیں اگر حکومت عوام کو مفت ماسک فراہم کرے تو اس سے نہ صرف وبا پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ استطاعت نہ رکھنے والے لوگ بھی ماسک کا استعمال کرسکیں گے ۔دوسری جانب معاون خصوصی اطلاعات کامران بنگش نے بتایا کہ حکومت کے لیے عوام کو مفت ماسک فراہم کرنا ممکن نہیں، ماسک کی قیمت 10 روپے ہے اور ہر کوئی باآسانی خرید سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی پہلی لہر میں ماسک کی قلت اور اس کی قیمتوں میں اضافہ جیسے مسائل کو حل کیا اور تیسری لہر میں ماسک کم داموں پردستیاب ہے، عوام کو خود خریدنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں