34

ایل این جی کیس: احتساب عدالت کے جج کا شاہد خاقان پر اظہار برہمی

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس پر سماعت ہوئی جس سلسلے میں لیگی رہنما عدالت میں پیش ہوئے۔شاہد خاقان نے عدالت کو بتایاکہ میرے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ کا کورونا ٹیسٹ ابھی منفی نہیں آیا، اس پر جج نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے کہا تھا بیرسٹر صاحب سے کہیں کسی معاون کو پیش ہونے کا کہیں، معاون وکیل کی موجودگی میں کم از کم نئے گواہ کا بیان تو ریکارڈ ہو جائے۔عدالت کے جواب پر شاہد خاقان نے کہا کہ میں بیرسٹر ظفراللہ سے بات کرکے کچھ بتا دیتا ہوں، اس پر عدالت نے سابق وزیراعظم پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ غلط بات ہے، آپ اب کہہ رہے ہیں بات کرکے بتاوں گا، آپ لوگ ایسے کریں گے تو روزانہ سماعت کرنا ہو گی۔
عدالت نے شاہد خاقان کی واپس جانے کی استدعا بھی مسترد کر دی اور کہا کہ آپ کے وکیل بھی موجود نہیں تو آپ کی موجودگی میں بیان قلمبند ہوگا، آپ بیرسٹر صاحب سے کہیں وہ یہاں کوئی نمائندہ مقرر کریں، یہاں وہ کسی وکیل کو آج نامزد کریں گے تب ہی آپ کو جانے دیں گے۔عدالت کی برہمی پر شاہد خاقان نے وکیل سے فون پر رابطے کی اجازت مانگی جس پر عدالت نے انہیں اجازت دے دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں