37

سیاسی انجینئرنگ کیلئے ادارے استعمال کیے جارہے ہیں: مریم نواز

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران مریم نواز نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے انکشافات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے وزیراعظم آفس کا غلط استعمال کیا، تاریخ میں کبھی موجودہ وزیراعظم آفس کے اندر اتنے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب نہیں ہوا، اداروں کے سربراہوں کو بلا کر کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف، مریم نواز کے خلاف یہ مقدمہ کرو، اداروں کے سربراہوں کو کہا جارہا ہے کہ رانا ثنا اللہ کے خلاف مقدمہ کرو۔انہوں نے کہا کہ سیاسی انجینئرنگ کے لیے ادارے استعمال کیے جارہے ہیں لیکن اتنی سیاسی انجینئرنگ کے باوجود نتیجہ کیا رہا، ہر محاذ پر حکمرانوں کو ناکامی ہوئی، جسٹس شوکت عزیز کی گواہی آن ریکارڈ ہے، اب بشیر میمن کی گواہی آگئی ہے۔لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے آفس میں سپریم کورٹ کے موجودہ جج کے خلاف سازش کی گئی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ انشااللہ چیف جسٹس بنیں گے، جسٹس قاضی کے خلاف سازش کی گئی، ان کی اہلیہ کٹہرے میں کھڑی تھیں، مسلم لیگ (ن) اس معاملے کو نہیں جانے دے گی، عدلیہ سے درخواست ہے کہ اس معاملے کو خود دیکھیں،جسٹس قاضی فائز پر جھوٹا ریفرنس بنانے پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی سنا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو سمجھ آگئی ہے کہ سسلین مافیاز کیا ہوتے ہیں، کہا جاتا ہے ابھی تم گرفتار کرلو، مقدمہ کیا بنانا ہے وہ بعد میں دیکھیں گے، 2014 میں دھرنے شروع ہوئے تب سے جانتے ہیں کیا سازش ہورہی ہے، آج جو کچھ ہورہا ہے وہ بھی اسی سازش کی کڑی ہے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ نوازشریف اپنی بیٹی کو لائے اور مرتی ہوئی بیوی کو چھوڑ کر آئے، نوازشریف نے جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا، سوچیں جب آپ کی حکومت ختم ہوگی تب کیا ہوگا، پاکستان کا ہرشہری جان گیا ہے عمران خان کس قسم کی ذہنیت کا آدمی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اگر استعفوں میں شامل ہوجاتی تو اب تک یہ حکومت جاچکی ہوتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں