31

’عوام گھروں میں رہیں، اگر لوگ زندہ ہوں گے تو کاروبار چلے گا اور خریداری بھی ہوگی‘

ایک ویڈیو بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہم بھارت کے حالات دیکھ کر پریشان ہیں اور ہمیں ان چیزوں کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا، قومیں اور ملک کھڑے ہو سکتے ہیں لیکن زندگی واپس نہیں آتی۔انہوں نے کہا کہ مالی نقصانات کا ازالہ ممکن ہے لیکن ملک کا سسٹم چلانے والے لوگوں کو زندہ کرنا مشکل ہے، آج وبا کا پھیلاؤ 2.5 فیصد سے بڑھ کر 12سے 15فیصد ہوگیا ہے، اگر 10فیصد وبا کا پھیلاؤ 30 یا 40 فیصد تک پہنچ گیا تو تاجر بتائیں کیا وہ اور ان کے رشتے دار اور ان کے دکاندار بچ سکیں گے، وہ کہاں جائیں گے لہٰذا عوام مہربانی کرکے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ 15 سے 20 دن گھر میں بیٹھ کر سادگی سے رمضان اور عید کو منائیں، کوئٹہ میں پانچ ہزارلوگوں کو تو علاج دے سکتے ہیں مگر لاکھوں لوگوں کے لیے سہولیات نہیں ہے، کورونا وائرس کی تیسری لہر تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے اگر وبا پر قابو نہ کیا گیا تو اسپتالوں میں مریضوں رکھنے کی جگہ نہیں ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں