32

نواز شریف کی سیاست ۔ پاناما کے بعد

نواز شریف بہت بدل گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ سیاست، یہ پنجاب، یہ ملک اور یہ سماج بھی بدل گیا ہے۔

پاناما سے پہلے ہم کسی اور نواز شریف کو جانتے تھے جو آخری لمحے تک مفاہمت کی بات کرتا تھا، درمیانی حل نکالنے کی کوشش کرتا تھا، سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتا تھا، جلتی پر ٹھنڈے پانی کا چھڑکاؤ کرتا تھا، احتجاج نہیں اتفاق کی طرف مائل رہتا تھا، وہ اپنے فیصلوں میں اس وقت بھی اٹل اور حتمی تھا مگر ٹکراؤ کی راہ اختیار نہیں کرتا تھا، وہ اس وقت بھی ہٹ کا پکا تھا۔ اگر ہٹ کا پکا نہ ہوتا تو میثاق جمہوریت نہ کرتا، دنیا بھر کے دباؤ کے باوجود ایٹمی دھماکے نہ کرتا، انیس سو ننانوے میں فوراً استعفیٰ دے دیتا لیکن اس زمانے میں نواز شریف اس بدتر سلوک کے باوجود ٹکرائو سے اجتناب کرتا رہا۔

اب نواز شریف بہت بدل گیا ہے۔ تیسری بار وزیر اعظم کی کرسی سے برخاست کیے جانے کے بعد نواز شریف کی سیاست میں بہت تبدیلی آئی ہے، وہ اب مفاہمت نہیں مزاحمت کی بات کرتا ہے، اب وہ فیصلہ کن ٹکراؤ چاہتا ہے، اب وہ درمیانی راہ کی تلاش میں نہیں بلکہ آر یا پار کی سوچ رکھتا ہے، اب اس سے یہ طعنہ نہیں سہا جاتا کہ پنجاب سے مزاحمت کی آواز نہیں اٹھتی، اب وہ یہ بہتان نہیں سن سکتا کہ پنجاب کے لیڈر قربانی نہیں دیتے، اب وہ کسی ڈیل، کسی آفر کی تلاش میں نہیں، اب وہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہتا، اب اس کو وہی عزیز ہے جو ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرے، اب وہ اسی کو دوست جانتا ہے جو جبر کے خلاف سینہ سپر ہو، اب اس کے قریب وہی ہے جو تاریخ کی درست سمت دیکھے، جو اس نظام سے اختلاف کی بات کرے، انقلاب کی بات کرے۔

نواز شریف کے قریبی احباب بتاتے ہیں کہ نواز شریف چاہتا تو بہت آسانی سے چوتھی دفعہ وزیر اعظم بن سکتا تھا، بس کچھ سمجھوتے کرنے تھے، کہیں سر جھکانا تھا اور کہیں نگاہیں چرانی تھیں۔ نواز شریف نے ان احباب کا مشورہ نہ مانا ۔ اپنے آپ کو ’’کلیئر‘‘ کروانے کے لیے عدالتوں کا رُخ کیا۔ وہ بہت پر امید تھا کہ جب جرم ہی کوئی نہیں تو ثابت کیا ہو گا لیکن انصاف کے در پر اس کا گمان صرف خوش گمانی ہی رہا۔ اس کے بعد وہ اصولی موقف پر ڈٹ گیا۔ چاہتا تو موٹر وے سے بھی لاہور آ سکتا تھا مگر جی ٹی روڈ کا سفر اختیار کیا۔ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا نعرہ بلند اور تاریخ کا پردہ چاک کیا، ستر سالوں کی کہانی لوگوں کو سنانا شروع کی، ہر وزیر اعظم کا نوحہ پڑھا، ہر سیاسی جماعت کی بات کی۔

اس وقت نواز شریف کو اچھی طرح علم تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے، ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے، قید تنہائی میں ڈالا جا سکتا ہے، پھانسی بھی دی جا سکتی ہے، خاندان پر آفتیں آ سکتی ہیں۔ احباب زیر عتاب آسکتے ہیں، مگر اب وہ ہر قربانی کے لیے تیار ہو چکا تھا، ہر خوف کی سرحد عبور کر چکا تھا۔ اب انصاف پر سے اس کا اعتماد اٹھ چکا تھا، وہ نیب کے انتقام سے آگاہ ہو چکا تھا۔ میڈیا ٹرائل کی وجوہات معلوم ہو چکی تھیں، پاناما کے بعد وہ سب خوش گمانیوں سے نکل چکا تھا۔ وہ اب ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے بیانیے پر مصر ہو چکا تھا۔

نواز شریف نے اس بیانیے کا خمیازہ بھی بہت بھگتا اور قربانیاں بھی بہت دیں۔ جانتے بوجھتے بستر مرگ پر اپنی اہلیہ کو چھوڑ کر مریم نواز کا ہاتھ پکڑ کر، قید میں جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ بیمار اہلیہ دیار ِغیر میں انتقال کر گئیں، تین دفعہ کا وزیر اعظم جیل کے سپرنٹنڈنٹ سے درخواستیں کرتا رہا کہ ایک منٹ کی بات ہی کروا دو۔ نواز شریف اہلیہ کو آخری سفر پر خدا حافظ کہنا چاہتا تھا مگر جیل سپرنٹنڈنٹ نے ’’اعلیٰ حکام‘‘ کے احکام کی تعمیل کی اور بات نہ کروائی۔ نواز شریف قید تنہائی میں رہا۔ بیٹی کو اپنے سامنے گرفتار ہوتے دیکھا، رانا ثنا ﷲ کو جھوٹے کیس میں زیرعتاب دیکھا، شاہد خاقان عباسی کو قید میں جاتے دیکھا، خواجہ آصف اور احسن اقبال کو جرم جمہوریت میں سزا بھگتتے دیکھا، والدہ کی موت کا غم سہا، پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم میں بے وفائی دیکھی، مگر کسی بھی بات سے نواز شریف کے موقف میں رتی بھر تبدیلی نہیں آئی، وہ اب بھی پوری شدت کے ساتھ اپنے مطالبے پر ڈٹے ہوا ہے۔

نواز شریف کو اب نہ اقتدار کی کوئی ہوس ہے نہ چوتھی بار وزیر اعظم بننے کا شوق ، وہ ڈیل چاہتا ہے نہ ڈھیل، اب نہ اسے پنجاب کی حکومت چاہیے، نہ کسی اور عہدے کا شوق ہے، وہ اب تاریخ کا دھارا موڑنا چاہتا ہے، جبر و استبداد کے خلاف مزاحمت کی علامت بننا چاہتا ہے۔ اب وہ چوہتر سال کا قرض اتارنا چاہتا ہے، عوام کے مصائب کا حتمی حل چاہتا ہے۔

مسلم لیگ ن کبھی مزاحمت کی جماعت نہیں رہی، نواز شریف نے اس جماعت کو تبدیل کر دیا، سر جھکا کر چلنے والے کارکنوں کو زبان دی، اختلاف کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی، مزاحمت کرنے والوں کو تھپکی دی۔ اب وہ صرف جمہوریت چاہتا ہے، ایسی جمہوریت جس میں صرف عوام کا عمل دخل ہو۔ اب وہ غیر جمہوری اداروں کی مداخلت برداشت نہیں کرتا، وہ پارلیمان کی بالادستی کا تقاضا کرتا ہے، عوام کی حاکمیت کا مطالبہ کرتا ہے۔

پاناما کے فیصلے کے بعد نواز شریف کی سیاست بہت تبدیل ہو گئی ہے، یہ ملک بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ وہ باتیں جو لوگ دبی آواز میں بھی کہنے کی جرات نہیں رکھتے تھے اب ببانگ دہل ہونے لگی ہیں ، وہ نعرے جو خواب میں بھی نہ لگتے تھے وہ اب گلی گلی لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ یہ نواز شریف کی کامیابی ہے، دراصل یہ اس کامیابی کی پہلی قسط ہے۔ نواز شریف نے جو سفر اختیار کیا ہے وہ رستہ کٹھن ہے مگر اس رستے پر سفر کا آغاز ہو چکا ہے، یہ ملک تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ سماج تبدیل ہو چکا ہے، نواز شریف تبدیل ہو چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں