38

ڈاکٹر تحسین فراقی اور مجلس ترقی ادب !

اخبار کے عام قارئین کو شاید علم نہ ہو کہ مجلس ترقی ادب لاہور کے علمی کاموں کو برصغیر پاک و ہند ہی نہیں، دنیا بھر میں موجود اردو کے کلاسیکی ادب کے رسیا بے حد احترام کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور اس ادارے کی اہمیت اس درجہ ہے کہ باہر سے آنے والے اسکالر اس ادارے کی ’’زیارت‘‘ کے لئے اس کے دفتر میں قدم رنجہ فرماتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ادارے کی قابل قدر علمی کاوشوں کے علاوہ اس کے سربراہ سے ملاقات بھی رہی ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو ادارے کے سربراہوں میں امتیاز علی تاج، پروفیسر حمید احمد خاں، احمد ندیم قاسمی اور شہزاد احمد ایسی پہاڑ جیسی بلند علمی و ادبی شخصیات رہی ہیں۔ چند برس پیشتر شہزاد احمد کی وفات کے بعد ڈاکٹر تحسین فراقی کو مجلس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا، پہلے احمد ندیم قاسمی اور شہزاد احمد کے دور میں ان کی وساطت سے بیرونِ ملک سے آئے مہمانوں سے ملاقات کا موقع مل جاتا تھا، جو ادارے میں آمد کے بغیر اپنے دورے کو نامکمل سمجھتے تھے اور ان کے بعد یہ سلسلہ ڈاکٹر تحسین فراقی کی سربراہی کے دوران بھی جاری رہا، مگر اب انہیں بغیر کوئی وجہ بتائے اس منصب سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ابھی ان کے ساتھ ہوئے معاہدے کے مطابق انہیں ایک سال اور ایک ماہ ادارے کی سربراہی کے فرائض انجام دینا تھے اور معاہدے کی مدت میں توسیع کا عمل جاری رہنا تھا کہ ان سے پہلے سربراہوں کوپچیس پچیس تیس تیس سال تک ادارے کی خدمت کا موقع دیا جاتا رہا ہے۔

اس وقت ہمارے درمیان جو اہلِ علم موجود ہیں، ان میں ڈاکٹر تحسین فراقی بہت نمایاں مقام کے حامل ہیں۔ وہ 41تحقیقی اور تخلیقی کتب کے مصنف اور مرتب ہیں۔ میں ان کے نام بھی درج کئے دیتا ہوں۔ جستجو (تنقیدی مضامین)، عجائباتِ فرنگ (سفر نامہ کمبل پوش)، عبدالماجد دریا آبادی (احوال و آثار)، معاصر اردو ادب (نثری مطالعات)، میر تقی میرؔ، میر اثر (طبع آکسفورڈ) حقیقت و حیرت (بہ سلسلہ بیدل) مطالعہ ٔ بیدل (فکر برگساں کی روشنی میں) جہاتِ اقبال، اب کیا کرنا چاہئے اے اقوامِ مشرق (منظوم ترجمہ پس چہ باید کرد اقوامِ مشرق) کتابیات تنقید و تاریخ ادب، مقالاتِ تحسین فراقی۔ شعری مجموعہ کے علاوہ فارسی سے اردو تراجم اور دیگر کتب۔ میں سب کتابوں کے نام لکھنا چاہتا تھا مگر سوچا کیا فائدہ، جب ایک ایسے شخص کو بلاوجہ اس کے منصب سے ہٹا دیا گیا جس نے اورینٹل کالج میں پروفیسری کے دوران کتنوں کی ڈاکٹریٹ میں رہنمائی کی، جس نے اعلیٰ درجے کا کلاسیکی ادب ادارے کے زیر اہتمام شائع کیا، جو ایک جنون کے عالم میں اپنے فرائض انجام دے رہا تھا اور علمی و ادبی حلقوں میں ادارے سے اس کی علیحدگی کا باقاعدہ سوگ منایا جا رہا ہے۔ اس حوالہ سے کتنی ہی تحریریں شائع ہو چکی ہیں، چنانچہ میرے ایک کالم لکھنے سے کیا ہو سکتا ہے۔

میں ڈاکٹر تحسین فراقی کو کئی دہائیوں سے جانتا ہوں۔ میں ان کے علمی ادبی کاموں کے علاوہ ان کی بے پناہ شرافت، دیانت، امانت اور دوسری بے شمار صفات کا اسیرہوں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر اس غیر سیاسی شخصیت کو حکومت کے متعلقہ محکمے نے یہ فیصلہ کرنا ہی تھا تو اس گوہر نایاب کو یوں ضائع تو نہ ہونے دیتے۔ کسی ایسے ادارے میں ایڈجسٹ کر دیتے جہاں ان کے لئے جگہ بنائی جا سکتی تھی یا لاہور جو پوری دنیا میں اپنی ایک تاریخی علمی شناخت رکھتا ہے، انہیں باہر کے علمی اداروں کے ساتھ روابط اور سفارت کا کام سونپ دیا جاتا۔ اور یہ کام اب بھی ہو سکتا ہے۔ میں بہت خوش فہم ہوں، بہت کم مایوس ہوتا ہوں، اس کے باوجود جو تجویز پیش کر رہا ہوں، اللہ جانے میں اس وقت خوش فہمی کے کن مدارج سے گزر رہا ہوں۔

تحسین فراقی بہت باحوصلہ شخصیت کے حامل ہیں۔ چند برس قبل ان کے جوان صاحبزادے کی اچانک وفات کا سن کر ان کے سب دوست شدید غم کی زد میں آ گئے، انہیں ایک فکر یہ بھی لاحق ہوئی کہ کہیں اس صدمے کے نتیجے میں وہ ایک عالم کے فیضان سے محروم نہ ہو جائیں، بتانے والے بتاتے ہیں کہ شدت غم سے فراقی کا سینہ پھٹا جا رہا تھا، مگر تعزیت کے لئے آنے والے ان کی آنکھوں کی نمی نہیں دیکھ پاتے تھے۔ انہوں نے بیٹے کی وفات پر دلدوز نوحے کہے جو ان کے شعری مجموعے میں شامل ہیں۔ یا پھر مجلس کے کاموں میں خود کو اتنا مدغم کر دیا کہ مجھے ایک سابق آئی جی پولیس (افسوس ان کا نام ذہن سے نکل گیا ہے) کی وہ آپ بیتی یاد آ گئی جس میں وہ اپنے ایک استاد، جو بچوں کو علم کے زیور سے آراستہ کرنا عبادت جانتے تھے اور اسکول سے کبھی چھٹی نہیں کرتے تھے، کی اکلوتی بیٹی جو ان کی کل متاع تھی، فوت ہو گئی تو بچے یہ سوچ کر خوش ہوئے کہ آج ماسٹر صاحب اسکول نہیں آئیں گے لیکن یہ محترم استاد بیٹی کی تدفین کے فوراً بعد اسکول پہنچے اور اپنا فرض ادا کر کے گھر پہنچے جہاں تعزیت کے لئے لوگ آئے ہوئے تھے۔ ایک صاحب نے کہا آج اگر آپ چھٹی کر لیتے تو کیا حرج تھا، استاد محترم نے جواب دیا ’’میں بچوں کو روز اپنا فریضہ سمجھ کر پڑھاتا تھا، آج یہ کام میں نے بیٹی کی مغفرت کے لئے کیا‘‘۔ فراقی نے بھی بیٹے کی وفات کے بعد ادب کی پہلے سے زیادہ خدمت شاید اسی سوچ کے ساتھ کی۔

سچی بات یہ ہے کہ میں اپنے آج کے اس کالم سے مطمئن نہیں ہوں، آج میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی، میں نے کئی دوستوں سے ملاقاتیں بھی منسوخ کر دی تھیں، لیکن کالم سے مطمئن نہ ہونے کے باوجود میرے سینے پر سے ایک بوجھ سا اتر گیا ہے۔ میں جب کبھی اس حوالے سے لکھنے بیٹھتا تھا تو دو تین صفحات لکھ کر مطمئن نہ ہونے کی وجہ سے وہ صفحات پھاڑ دیتا تھا۔ میں آج بھی یہی کرنے لگا تھا مگر دل کے بوجھ کو کب تک سینے پر سوار رکھتا؟

تحریر:عطا ء الحق قاسمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں