36

باپ اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات کے بادل نہ چھٹ سکے

بلوچستان کی حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے اندر اختلافات کی کچھڑی پک رہی ہے جب کہ باپ کے اپنے سب سے بڑے اتحادی پاکستان تحریک انصاف سے (پی ٹی آئی ) سے اختلافات کے بادل بھی چھٹ نہیں سکے ہیں۔بلوچستان اسمبلی کے 65 اراکین میں سے 41کی حمایت رکھنے والی صوبے کی اتحادی حکومت میں اختلافات کی خلیج اب گہری ہوتی جارہی ہے ، پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔دوسری جانب بلدیات کی وزرات لیے جانے کے بعد باپ کے سینئر رکن اسمبلی سردار صالح بھوتانی نے پارٹی میں وزیر اعلیٰ سے ناراض اراکین سے رابطے تیز کردیے ہیں جس کے پیش نظر صوبائی وزیر سردار صالح بھوتانی نے گزشتہ روز اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی۔
صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی بھی جام کمال سے کچھ کھنچے کھنچے نظر آرہے ہیں اور انہوں نے اپنی سرکاری رہائش گاہ چھوڑ کر ایم پی اے ہاسٹل میں فلیٹ الاٹ کرالیا ہے۔اس صورتحال میں بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن بھی بدلتی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے جب کہ دوسری طرف وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے خاموشی کا روزہ رکھا ہواہے۔سیاسی ماہرین کاکہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو صوبائی اسمبلی کا آئندہ اجلاس ہنگامہ خیز ہوسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں