45

میٹرک، انٹر کے امتحانات کی تجویز، نویں اور گیارہویں کے طلبہ کو پروموٹ کرنے پر غور

ملک میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز اور کچھ صوبوں کے طریقہ امتحانات سے متعلق مکمل تیاری نہ ہونے کے باعث صرف 10 ویں اور 12 جماعت کے امتحانات لینے اور 9 ویں اور 11ویں طلبہ کو اگلی کلاسوں میں پروموٹ کرنے پر غور شروع کردیا گیا ہے۔ منگل کو آئی بی سی سی کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے تحت ہونے والے آن لائن اجلاس کی صدارت چیئرمین اسٹیئرنگ کمیٹی ڈاکٹر ناظم جیوا نے کی جب کہ اجلاس میں سیکرٹری آئی بی سی سی ڈاکٹر غلام علی ملاح، چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی ڈاکٹر سعید الدین، سرگودھا تعلیمی بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر کوثر رئیس، کوہاٹ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر شوکت حیات، فیڈرل بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر قیصر عالم نے شرکت کی۔
آئی بی سی سی کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں یہ بھی تجویز زیر غور آئی کہ امتحانات کو مختصر کرنے کے لیے لازمی مضامین کے بجائے اختیاری مضامین کے امتحان لیے جائیں تاہم اس موقع پر کہا گیا کہ سائنس کے زمرہ میں تو یہ ممکن ہے تاہم آرٹس میں اختیاری مضامین ہونے کے باعث مشکل ہوگی لہٰذا بہتر ہے کہ دسویں اور بارہویں کے امتحان لیے جائیں جب کہ نویں اور گیارہویں کے طلبہ کو بغیر امتحان اگلی کلاسوں میں بھیج دیا جائے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ اگر آئی بی سی سی اس تجویز پر متفق ہوگیا کہ دسویں اور بارہویں کے امتحان لیے جائیں تو پھر یہ معاملہ حتمی منظوری کے لیے بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں بھیجا جائے گا اور وہاں سے منظوری کے بعد اس کا اطلاق پورے ملک میں کردیا جائے گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ نے صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلے کے تناظر میں امتحانات سے متعلق اپنی تیاری مکمل کرلی ہے جس کے تحت 50 فیصد سوالات 30 فیصد مختصر اور 20 فیصد تفصیلی جوابات پر مشتمل ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں