45

’کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے وفاقی حکومت کا طریقہ عقل سے باہر ہے‘

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ پورے ملک میں کورونا کی صورتحال سنگین ہے، کم از کم دو ہفتے کیلئے بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند کرنا چاہیے، ہم نے پہلے بھی بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر پابندی لگائی تھی۔انہوں نے کہا کہ میں نے این سی سی کی میٹنگ میں کہا تھا کہ ہمیں انٹرسٹی ٹرانسپورٹ بند کردینی چاہیے، پوری دنیا نے فلائٹس بند کردیں، اگر ہمارے ملک سے لوگ چلے جائیں تو 14 دن قرنطینہ کرنا پڑتا ہے، جب میں کراچی سے اسلام آباد آیا تو جہاز پورا بھرا ہوا تھا، میں نے تو سنا تھا کہ فلائٹس 20 فیصد کررہے ہیں۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا وفاق کا طریقہ بالکل عقل سے باہر ہے، اخباری بیانات دینے سے اور نئے نئے میٹر ایجاد کرنے سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ نہیں روکا جاسکتا، ایک وفاقی وزیر کہتے کہ ٹرانسپورٹ کیسے بند کرسکتے کیونکہ لوگ خریداری کرنے آتے ہیں، ایک وفاقی وزیرکہتے ہیں کہ آخری 10 دن رمضان میں لاک ڈاؤن ہوگا تو جس نے شاپنگ کرنی ہے ابھی کرلے، مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ہم لاک ڈاؤن کیلئے کس چیزکا انتظار کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک بڑی ناکامی ہوئی ہے کہ ہم ویکسی نیشن وقت پر نہیں منگوا سکے، ہم پسماندہ ممالک سے بھی ویکسی نیشن منگوانے میں پیچھے ہیں۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ میں کورونا کی صورتحال کوئی زیادہ اچھی نہیں ہے البتہ سندھ میں اسپتالوں کی صورتحال قدرے بہتر ہے، اگر تمام بستر بھی اسپتال میں بھرجائیں تو ہم نے حکمت عملی بنائی ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم تاخیر کرچکے ہیں، اپریل میں بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند کردینی چاہیے تھی، وزیراعظم کہتے ہیں گھبرانا نہیں ہے، میں تو بہت پہلے سے گھبراچکا ہوں، پورے پاکستان میں یوم علیؓ کے موقع پرجلوسوں کے حوالے سےایک پالیسی رکھنے کا کہا گیا تھا، این سی او سی میں کہا تھاکہ یوم علیؓ پر ایک فیصلہ لیں جس پر سب پابند ہوں، این سی او سی نے یوم علیؓ کے جلوس پرپابندی لگائی اور صدرمملکت کہتے ہیں جلوس میں ایس او پیز اپنائیں جب کہ عمران خان کہتے ہیں کورونا مہلک بیماری ہے اور اگلے دن منصوبوں کا افتتاح کررہے ہوتے ہیں، اگر ہم نے کورونا کیلئے اقدامات نہیں کیے تو بھارت جیسی صورتحال ہوجائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں