40

جاوید لطیف اور علی وزیر

جاوید لطیف اور علی وزیر
تحریر:حامد میر
میاں جاوید لطیف اور علی وزیر کا تعلق دو مختلف علاقوں، مختلف جماعتوں اور مختلف مکاتب فکر سے ہے۔ بظاہر دونوں میں صرف یہی ایک مماثلت ہے کہ دونوں قومی اسمبلی کے رکن ہیں اور دونوں ہی آج کل جیل میں ہیں لیکن دونوں میں ایک اور حیران کن مماثلت بھی سامنے آئی ہے۔

علی وزیر کے خلاف پچھلے سال کراچی کے تھانہ سہراب گوٹھ اور جاوید لطیف کے خلاف سالِ رواں میں لاہور کے تھانہ ٹائون شپ میں دو علیحدہ علیحدہ مقدمات درج کئے گئے لیکن دونوں کے خلاف مقدمات میں درج دفعات میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔

دونوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 120بی اور 153اے سے لے کر 505بی تک وہ تمام دفعات استعمال کی گئی ہیں جو ان دونوں کو ریاستِ پاکستان کا مبینہ دشمن ثابت کرتی ہیں۔

کل رات سپریم کورٹ کے ایک نامور وکیل نے مجھے جاوید لطیف اور علی وزیر کے خلاف درج ہونے والے مقدمات میں پائی جانے والی مماثلت پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آج کل آپ فلسطین پر اسرائیل کی مسلسل بمباری سے بڑے پریشان نظر آتے ہیں لیکن ذرا قائداعظم محمد علی جناح کے پاکستان میں آئین اور جمہوریت پر ہونے والی مسلسل بمباری کی طرف بھی توجہ دیجئے۔

میں نے وکیل صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ اگلی پیشی پر جاوید لطیف کا دفاع کرنے والے ہیں؟ تو وہ اپنے ماسک کے پیچھے سے مسکرائے اور کہا کہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دو دن پہلے ایشیا یورپ پیپلز فورم کے ایک آن لائن انٹرنیشنل سیمینار میں برطانوی پارلیمنٹ کے رکن جیریمی کوربن کی تقریر سن رہے تھے اور تقریر کے بعد جیریمی کوربن نے آپ کے سوالات کے جواب بھی دیے۔ آپ نے فلسطین اور میانمار کے متعلق سوالات کئے لیکن پاکستان کے متع
لق کوئی سوال نہیں کیا۔

میں نے وکیل صاحب کو یاد دلایا کہ اس آن لائن سیمینار میں جیریمی کوربن کے علاوہ بھی کچھ مقررین تھے اور بطور میزبان مجھے سب سے سوالات کرنا تھے لیکن اس سیمینار میں کوئی ایک بھی پاکستانی مقرر نہیں تھا، اس لئے میں نے پاکستان کے متعلق سوال نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ کیا آپ نے ایشیا یورپ پیپلز فورم کی طرف سے دس ممالک کے بارے میں جاری کی جانے والی رپورٹ پڑھ لی ہے؟ میں نے بتایا ابھی صرف سرسری نظر دوڑائی ہے، تفصیل سے نہیں پڑھی تو انہوں نے کہا ذرا تفصیل سے پڑھ لیں تو بطور پاکستانی آپ کا سرشرم سے جھک جائے گا۔

قائداعظم کا پاکستان دنیا کی 35 جعلی جمہوریتوں میں شامل ہو چکا ہے اور وطن عزیز کا ذکر کمبوڈیا، لائوس اور میانمار جیسے ممالک کے ساتھ آیا ہے جن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عروج پر ہیں۔

ان دس ممالک میں بھارت بھی شامل ہے لیکن اس کی جمہوریت کو جعلی نہیں بلکہ کمزور قرار دیا گیا ہے۔ گلوبل ڈیموکریسی انڈیکس میں بھارت کا نمبر 53واں اور پاکستان کا 105واں ہے۔ وہ بتا رہے تھے کہ رپورٹ میں علی وزیر کا ذکر پڑھ کر وہ چونکے۔

انہوں نے علی وزیر کے متعلق مقدمے کی تفصیلات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ جاوید لطیف پر بھی اسی قسم کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اس قسم کے مقدمات سے ریاستیں مضبوط نہیں بلکہ مزید کمزور ہو جایا کرتی ہیں۔ وہ خود بھی ایک انٹرنیشنل سیمینار میں تقریر کی تیاری کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور منتخب اراکینِ پارلیمنٹ کی گرفتاریوں کے باعث عالمی فورمز پر اپنے ملک کا دفاع بہت مشکل ہو چکا ہے۔

اس وقت قومی اسمبلی کے چار اراکین قید میں ہیں۔ جاوید لطیف اور علی وزیر کے علاوہ سید خورشید شاہ اور خواجہ محمد آصف بھی پاکستان کی ہائی برڈ حکومت کے قیدی ہیں۔ سید خورشید شاہ اور خواجہ محمد آصف پر آمدن سے زیادہ اثاثوں کا مقدمہ ہے لیکن جاوید لطیف اور علی وزیر پر ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کا الزام ہے۔

اس سے قبل رانا ثناء ﷲ کو منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار کیا گیا لیکن عدالت میں کچھ ثابت نہ ہو سکا۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف پچھلے تین سال میں دو دفعہ گرفتار ہو چکے ہیں اور تیسری مرتبہ انہیں گرفتار کرنے کی تیاریاں مکمل ہیں۔

ہائی برڈ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کرپشن کے خلاف اپنی جنگ جاری رہے گی اور عمران خان اصولوں پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے لیکن جب جہانگیر ترین کا معاملہ آتا ہے تو سب اصول دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ جہانگیر ترین پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ شاید وزیراعظم عمران خان کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ ان کا احتساب کا بیانیہ ناکام ہو چکا ہے اور اسی لئے وہ اوپر تلے ضمنی انتخابات میں شکست کا سامنا کر رہے ہیں۔

لہٰذا انہوں نے اپنے بیانیے کی عزت بچانے کیلئے راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل میں کچھ سرکاری افسران کو قربانی کا بکرا بنایا ہے۔ خان صاحب بھول رہے ہیں کہ احتساب کے نام پر انتقام کے بیانیے پر زیادہ عرصہ تک ووٹ نہیں مل سکتے۔ ان کا خیال ہے کہ انہوں نے شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روک کر کرپشن کے خلاف جنگ جیت لی ہے حالانکہ اس معاملے میں حکومت شہباز شریف سے ڈری ڈری اور سہمی سہمی سی نظر آتی ہے۔

فرض کریں کہ شہباز شریف چلے جاتے اور پھر نواز شریف کی طرح واپس نہ آتے تو حکومت کو نقصان نہیں فائدہ ہوتا۔

شہباز شریف کو روک کر حکومت نقصان میں نظر آتی ہے۔ ایک طرف اپوزیشن کے خلاف حکومت کا انتقامی رویہ پاکستان میں داخلی انتشار پھیلا رہا ہے اور دوسری طرف خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پاکستان کیلئے خارجی مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

حکومت اور کچھ نہیں تو انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنا کر عالمی سطح پر پاکستان کو ’’قابلِ دفاع‘‘ بنا سکتی ہے لیکن اس ہائی برڈ حکومت کے دور میں جاوید لطیف اور علی وزیر کو محض اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ علی وزیر پر درج ہونے والے مقدمے کی منظوری سندھ کی صوبائی حکومت دیتی ہے اور سندھ پولیس علی وزیر کو پشاور سے گرفتار کرکے کراچی لاتی ہے۔ سب جانتے ہیں علی وزیر کی سندھ حکومت سے کوئی لڑائی نہیں جس سے لڑائی ہے وہ کوئی راز نہیں۔ ہائی برڈ حکومت میں جمہوریت بھی جعلی ہے اور علی وزیر کے خلاف مقدمہ یہ گمان پیدا کرتا ہے کہ اپوزیشن بھی جعلی ہے۔ ﷲ تعالیٰ قائد اعظم کے پاکستان پر رحم فرمائے۔

نوٹ:لکھاری کی تحریر اس کی اپنی سوچ کی عکاس ہوتی ہے ،ا دارہ کا کسی بھی تحریر کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں، ادارہ کسی بھی تحریر کا جواب دہ نہیں ہے

حامد میر

قلم کمان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں