37

کچھ بچے کم اور کچھ بچے زیادہ بالوں کے ساتھ کیوں پیدا ہوتے ہیں؟

عمر رسیدہ خواتین کا ماننا ہے کہ وہ مائیں جنہیں دوران حمل سینے میں جلن کا سامنا رہتا ہے ان کے ہونے والے بچے گھنے بالوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور ماہرین بھی اس بات کو کسی حد تک تسلیم کرتے ہیں۔ماہرین نے اس حوالے سے حمل کے دوران سینے میں جلن کا سامنا کرنے والی 28 خواتین پر تحقیق کی جن میں سے 23 خواتین کے بچے گھنے بالوں کے ساتھ پیداہوئے جس کے تحت محققین نے تسلیم کیا کہ دوران حمل جاری ہارمون بچے میں بالوں کی نشوونما کو بھی کنٹرول کرسکتے ہیں۔ماہرین پیدائشی بچوں کے بالوں میں کمی اور زیادتی سے متعلق درج ذیل وجوہات پیش کرتے ہیں۔
جینیات کا اہم کردار
اگرچہ ماہرین اس حوالے سے 100 فیصد معلومات نہیں رکھتے کہ کچھ بچے زیادہ اور کچھ کم بالوں کے ساتھ کیوں پیدا ہوتے ہیں ؟ لیکن اس کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ نوزائیدہ بچے کے بالوں میں جینز اور ڈی این اے کا اہم کردار ہوتا ہے۔
زچگی ہارمون
ماں کے رحم میں ہارمون کی بڑھتی سطح بھی بچوں میں بالوں کی نشوونما کا باعث بنتی ہے جب کہ پیدائش کے بعد ہارمون کی سطح میں کمی بچے کے بالوں کی نشوونما میں بھی کمی کا باعث بنتی ہے۔
گنجے بچے اور ماں کو ملنے والی غذائیت
اکثر والدین کا خیال ہے کہ بچوں کی کم یا زیادہ بالوں کے ساتھ پیدائش کا تعلق دوران حمل ماں کو ملنی والی غذائیت سے ہے یا بچوں میں موجود کیلشیم کی مقدار سے۔تاہم یہ درست نہیں، کیوں کہ ایک سال تک بچے کے بالوں کی نشوونما میں کمی بیشی معمول کی بات ہے۔ اس کے برعکس بچے کی بالوں کی نشوونما صرف اسی صورت متاثر ہوسکتی ہے جب بچے میں آئرن کی کمی ہو یا بچہ دیگر بیماریوں کا شکار ہو۔
جسم پر بالوں کے ساتھ بچوں کی پیدائش
کچھ بچے لینوگو(جسم پر بالوں)کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، حمل کے چوتھے یا پانچویں مہینے لینوگو نشوونما پاتے ہیں جب کہ حمل کے چھٹے یا ساتویں مہینے یہ بال گرنے لگتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جسم پر موجود یہ بال بچے کی پیدائش سے قبل ہی جھڑجاتے ہیں لیکن کچھ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے بھی ان بالوں کے ساتھ پیدا ہوسکتے ہیں ۔
نوزائیدہ بچوں کے بال جھڑنا
بچے کا گدے سےسر کو رگڑنا اکثر بچوں کے لیے بھی 6 ماہ تک بالوں کے گرنے کا باعث بن سکتا ہے اور جب بچے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ اس عادت میں کمی لاتے ہیں تو ان کے بال بھی گرنا کم ہوجاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں