60

مالی سال 22-2021: 8 ہزار 487 ارب روپے کے بجٹ میں ہے کیا؟ تنخواہیں،پنشن اور ترقیاتی پروگمز کا کتنا حصہ،کیا سستا ہوا اور کیا مہنگا،تاجروں پر مزید کتنا بوجھ؟،سب کچھ جاننے کے لیے پڑھیں یہ خبر

(رگز نیوز ویب ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے مالی سال 22-2021 کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔ بجٹ کا کل حجم 8 ہزار 487 ارب روپے ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی بجٹ 2 ہزار 102 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جس میں سے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 900 ارب اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کیلئے 1 ہزار 202 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دفاع کیلئے 1373 ارب ، سود کی ادائیگیوں کیلئے 3 ہزار 60 ارب، تنخواہوں اور پنشن کیلئے 160 ارب، صوبوں کو این ایف سی کے تحت ایک ہزار186 ارب، صحت کیلئے 30 ارب اور ہائیرایجوکیشن کیلئے 44 ارب مختص کیے ہیں۔ آزاد کشمیرکا بجٹ 54 ارب سے بڑھا کر60 ارب کردیا گیا۔ گلگت بلتستان کا بجٹ32 ار ب سے بڑھاکر47 ارب کرنے کی تجویز ہے۔

بجٹ میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے 54 ارب روپے, جنوبی بلوچستان کی ترقی کیلئے 20 ارب,، گلگت بلتستان کے منصوبوں کیلئے 40 ارب روپے اور سندھ کے 14 اضلاع کیلئے 19 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدرات ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین بجٹ پیش کیا۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن کے اراکین مسلسل نعرہ بازی کرتے رہے۔ بجٹ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان بھی شرکت کی۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بجٹ امن عامہ کیلئے 178 ارب، ماحولیاتی تحفظ کیلئے 43 کروڑروپے، صحت کیلئے 28 ارب، تفریح ،ثقافت اور مذہبی امورکیلئے 10 ارب مختص کیے ہیں۔

آئندہ مالی سال حکومت 1 ہزار 246 ارب روپے غیرملکی قرض لے گی۔ اندرون ملک سے 2 ہزار492 ارب روپے قرض لیا جائے گا۔

بجٹ کے مطابق قومی بچت اسکیموں سے 74 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدن کا تخمینہ 252 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے.

بجٹ میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار829 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 2 ہزار 80 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ احساس پروگرام کیلئے 260 ارب روپے رکھنے کی تجویزہے۔ ہمیں مہنگائی کے دباوَ کا سامنا ہے جس پرقابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شوکت ترین نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 180 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر پروگرام ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ ترقیاتی بجٹ کو630 ارب سے بڑھا کر900 ارب روپے کر رہے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ میں تقریباً 40 فیصد سے زیادہ کا اضافہ کیا گیا۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ اگلے سال خوراک وادویات کی دستیابی یقینی بنائیں گے۔ اگلے مالی سال زرعی شعبے کیلئے 12 ارب روپے مختص کر رہے ہیں۔ چاول ،گندم، کپاس اور دالوں کی پیداوارمیں اضافے کیلئے 2 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ ٹڈی دل ایمرجنسی اورفوڈ سیکیورٹی منصوبوں کیلئے 1ارب رکھ رہے ہیں۔

وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ زیتون کی کاشت بڑھانے کیلئے 1 ارب، آبی گزرگاہوں کی مرمت کیلئے 3 ارب ، داسوہائیڈرو پاورپراجیکٹ کے پہلے مرحلے کیلئے 57 ارب، دیامر بھاشا کیلئے 23 ارب، نیلم جہلم پاورپراجیکٹ کیلئے 14 ارب روپے رکھےگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک میں 13 ارب ڈالر کے 17 بڑے منصوبے مکمل کرلیے گئے ہیں۔ سی پیک کے تحت 21 ارب ڈالرمالیت کے مزید 21 منصوبوں پرکام جاری ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ اسلام آباد ویسٹ اورلاہورنارتھ ٹرانسمیشن لائن کیلئے ساڑھے 7 ارب روپے، داسو سے 2160 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے ساڑھے 8 ارب مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سُکی کناری کہالہ ہائیڈروپاورپراجیکٹ کیلئے ساڑھے 5 ارب، حیدرآباد سکھرٹرانسمیشن لائن کیلئے 12 ارب، جامشورو میں کوئلے کی مدد سے 1200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے 22 ارب اور کراچی میں کے ون اور ٹو اور تربیلا فائیومنصوبے کیلئے ساڑھے 16 ارب مختص کیے ہیں۔

شوکت ترین نے کہا کہ جنوبی بلوچستان کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 20 ارب رکھے جا رہے ہیں۔ جنوبی بلوچستان کا ترقیاتی پروگرام 601 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوگا۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے لیے 739 ارب روپے کے حجم پرمبنی ہے۔ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کیلئے وفاقی حکومت 98 ارب روپے دی گی۔ کراچی ٹرانسفارمیشن کیلئے سپریم کورٹ فنڈ کے 125 ارب بھی شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی شعبے کے اشتراک سے 509 ارب روپے خرچ ہو نگے۔ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان میں ماس ٹرانزٹ، دریاوَں اورنالوں اورسڑکوں کی تعمیرشامل ہے۔ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان میں واٹرسپلائی کی سہولت فراہم کرنے پرتوجہ دی گئی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ گلگت بلتستان ترقیاتی پروگرام 162 ارب روپے کے 29 منصوبوں پرمشتمل ہے۔ نئے بجٹ میں گلگت بلتستان ترقیاتی پروگرام کیلئے 40 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کیلئے 54 ارب مختص کیے ہیں۔

شوکت ترین نے کہا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے پاس 2 ہزارارب مالیت کے 50 منصوبے ہیں۔ سیالکوٹ تاکھاریاں اور سکھرتا حیدرآباد موٹروے پر233 ارب بجٹ کے ساتھ کام جاری ہے۔ 710 ارب روپے کے مزید 6 پراجیکٹس پر سال 2021-22 میں کام شروع ہوگا۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت پبلک پرائیویٹ منصوبوں کی تکمیل کیلئے 61 ارب روپے ادا کرے گی۔ صحت کیلئے 30 ارب ہائیرایجوکیشن کیلئے 44 ارب مختص کیے ہیں۔ ترقیاتی تسلسل کے حصول کیلئے 68 ارب رکھے گئے ہیں. ماحولیات کیلئے 16 ارب روپے رکھے گئے ہیں.

انہوں نے کہا کہ گراس ریونیو کا تخمینہ 7 ہزار 909 ارب روپے ہے۔ 2020-21 کیلئے نظرثانی شدہ تخمینہ جات 6 ہزار395 ارب ہیں۔ ایف بی آر کے محاصل میں 24 فیصد اضافے کے ساتھ 5 ہزار829 ارب کا اضافہ متوقع ہے۔ نان ٹیکس ریونیو 22 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔ وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ 3 ہزار 411 ارب روپے ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ گزشتہ سال وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ 2704 ارب روپے تھا۔ گزشتہ سال کے مقابلےمیں صوبوں کو 25 فیصد اضافی رقم فراہم کی جائے گی۔ صوبوں کا حصہ دینے کے بعد وفاقی محاصل کا تخمینہ 4 ہزار497 ارب روپے ہے۔ گزشتہ سال وفاقی محاصل 3691 ارب روپے تھے جس میں اس میں 22 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی اخراجات 8 ہزار487 ارب روپے رہیں گے۔ گزشتہ سال وفاقی اخراجات 7 ہزار 341 ارب روپے تھے۔ نئے بجٹ میں وفاقی اخراجات میں 15 فیصد اضافہ ظاہر ہو رہا ہے۔ حکومت کفایت شعاری کے اقدامات جاری رکھے گی۔ اخراجات کا تخمینہ 6 ہزار 561 ارب سے بڑھ کر7 ہزار530 ارب رہنے کی توقع ہے۔ سبسڈیزکا تخمینہ 682 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت غربت کے خاتمے کیلئے 260 ارب رکھے ہیں۔ نئے بجٹ میں ایک ارب 10 کروڑ ڈالرکورونا ویکسین کی درآمد پرخرچ ہوں گے۔ جون 2022 تک 10 کروڑ لوگوں کی ویکسی نیشن کا ہدف ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ سندھ کو 19 روب روپے کی خصوصی گرانٹ دیں گے۔ بلوچستان کو این ایف سی رقم کے علاوہ 10 ارب فراہم کیےجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 2022 میں نئی مردم شماری کیلئے وفاق 22 ارب روپے اپنا حصہ دے گا۔ بلدیاتی انتخابات کیلئے 5 ارب روپے رقم رکھی گئی ہے۔ کورونا ایمرجنسی فنڈ کیلئے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلا ضمانت قرضوں کی فراہمی کیلئے 12 ارب رکھ رہے ہیں۔ کامیاب پاکستان پروگرام کیلئے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اینٹی ریپ فنڈ کیلئے 10 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ پی آئی اے کیلئے 20 ارب اوراسٹیل ملز کیلئے 16 ارب رکھے گئے ہیں.

وزیرخزانہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشتی کو طوفان سے نکال کرساحل پر لے آئے ہیں۔ بہت زیادہ قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کے قریب تھے۔ بجٹ خسارہ تاریخ کی بلندترین سطح 20 ارب ڈالرپر تھا۔ معیشت کومضبوط بنیاد فراہم کردی گئی ہے۔

وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ بجٹ خسارے کی وجہ سے عدم توازن کا سامنا تھا۔ ہمیں خراب معیشت ورثے میں ملی۔ ہمارے اوپر بھاری گردشی قرضوں کا بوجھ تھا۔

وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ماضی میں بلاسوچے سمجھے قرضے لیے گئے۔ ماضی میں لیے گئے قرضوں کی ادائیگی ہمیں کرنا پڑی ورنہ دیوالیہ ہوجاتے۔ سب سےبڑا چیلنج دیوالیہ ہونے سے بچنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے معیشت کومستحکم کرنے میں وقت لگا۔ مشکل فیصلے کیے بغیراس صورتحال سے نکلنا ممکن نہیں تھا۔
اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری مہم پرعمل پیرا رہے۔ استحکام سے معاشی نموکی طرف گامزن ہوئے۔ ہم معیشت کو ترقی کی راہ پرگامزن ہوئے۔

وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ کورونا وبا کی دو اضافی لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔ زراعت کےشعبے میں تاریخی کامیابی حاصل کی۔ حکومت میں آئے تو زرعی شعبے میں ٹڈی دل حملے کا سامنا کیا۔ گزشتہ مالی سال زراعت کے شعبےمیں ترقی کی شرح منفی میں تھی۔

شوکت ترین نے کہا کہ رواں سال زراعت کے شعبے نے 9 فیصد ترقی کی۔ صحت کے شعبے میں خاطرخواہ اقدامات کیے۔ کم آمدنی والے طبقے کو احساس پروگرام کے ذریعے امداد فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ 40 ملین افراد کواحساس کے ذریعے نقد امدادی رقوم دی گئی۔ ترسیلات زرمیں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ بیرون ملک پاکستانیوں کا وزیراعظم پراعتماد کا اظہار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ کے دن سرکاری ملازمین سڑکوں پر

وزیرخزانہ نے کہا کہ لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹیکس وصولیوں میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ٹیکسوں کی وصولی 4 ہزار ارب روپے کی نفسیاتی حد عبورکرچکی ہے۔ برآمدات ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ برآمدات میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔

وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ادائیگیوں کے توازن میں استحکام پیدا کیا۔ غذائی اجناس درآمد کرنے کی وجہ 2019 میں کم پیداوار تھی۔ زرمبادلہ کے ذخائر16 ارب ڈالر ہوگئے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر3 ماہ کی درآمدات کیلئے کافی ہیں۔ کرنٹ اکاوَنٹ خسارے پر پوری طرح قابو پالیا گیا ہے۔

وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اسٹیٹ بینک سے بے تحاشا قرضے لیکر ریت کا گھرتعمیرکرنا مہنگا پڑا۔ ہمیں اپنے ملک کوغذائی ضروریات کے قابل بنانا پڑے گا۔ کولڈ اسٹوریج اور کھیتوں سے مارکیٹ تک روڈ تعمیرکرنے کی ضرورت ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ معاشی ترقی کا ہدف 4 اعشاریہ 8 فیصد رکھا ہے۔ معاشی ترقی کا ہدف4 اعشاریہ 8 فیصد سے بھی زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ معاشی ترقی کے ثمرات غریب عوام تک پہنچیں گے۔ 6 ملین گھرانوں کو5لاکھ تک قرضےدینگے۔ غریبوں کو گھر بنانے کیلئے 20 لاکھ روپے تک قرضے فراہم کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ریاست مدینہ کا وعدہ پورا کرینگے۔ آبادی کا 65 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر افراد پرمشتمل ہے۔ نوجوانوں کے روزگار کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے.

وزیرخزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے بچنے کیلئے اقدامات کرینگے۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے صنعتی شعبے کو خصوصی مراعات دینگے۔ ایک کروڑ مکانات کی تعمیرکیلئے خصوصی قرضے فراہم کرینگے۔ نیا پاکستان ہاوَسنگ پراجیکٹ کیلئے ٹیکسوں میں خصوصی رعایت دینگے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بارمورگیج فنانسنگ شروع کی گئی ہے۔ ڈالر155 روپے کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ کسانوں کو3100 ارب روپے کی آمدن ہوئی۔ پچھلے سال کسانوں کی آمدن 2300 ارب روپے تھی۔ ایک سال میں فی کس آمدنی میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔

اس سے قبل وفاقی کابینہ نے مالی سال 22-2021 کے لیے بجٹ کی منظوری دے دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں