43

اسمارٹ فون، واچ، ٹی وی، دروازے کی گھنٹی تک جاسوسی کرتی ہے

اسمارٹ فونز، اسمارٹ واچ، لیپ ٹاپ، کمپیوٹرز، ڈیجیٹل ٹیلی وژن، ٹریکنگ ڈیوائس سے لیس کار، حتیٰ کہ آپ کے گھر کے دروازے پر لگی جدید گھنٹی آپ کی جاسوسی کرتی ہے۔ جس کی بدولت آج دنیا کی حکومتوں اور خفیہ ایجنسیوں کے پاس عوام کی ذاتی معلومات کی رسائی تاریخی ہے۔

برطانوی تعلیمی ادارے ’آکسفورڈ یونیورسٹی‘ کی پروفیسر Carissa Veliz نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ ڈیوائسز کے ذریعے روزمرہ زندگی کی معلومات، رازداری، اب ٹیکنالوجی کمپنیوں کے رحم و کرم پر ہے۔ کوئی بھی ہیکر چھوٹی سی واردات سے کسی کے بھی ذاتی ڈیٹا تک پہنچ سکتا ہے۔

’مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات‘ سے متعلق تحقیق کرنے والی برطانوی پروفیسر کا کہنا ہے کہ ذاتی معلومات اسٹور کرنے کا سلسلہ اُس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ سو کر اٹھتے ہیں۔ لیکن اگر اسمارٹ واچ پہن رکھی ہے یا موبائل فون سرہانے ہے، تو حرکات و سکنات اور انتہائی نجی معاملات کا ڈیٹا رات کو بھی جمع ہوتا رہتا ہے۔

گھر کے دروازے پر لگی جدید گھنٹی خود کار طریقے سے گھر آنے والے مہمانوں کی تصاویر اکٹھی کرتی ہے۔

اسمارٹ ٹی وی نہ صرف یہ ڈیٹا جمع کرتا ہے کہ آپ کب اور کیا دیکھتے ہیں۔ بلکہ اگر پرائیویسی پالیسی پڑھنے کا وقت ملے تو پتہ چلے کہ ٹی وی آپ کی گفتگو سنتا، محفوظ رکھتا اور اسے آگے بیچنے کا حق رکھتا ہے۔ جس کی منظوری اسے خود آپ نے پرائیویسی پالیسی کو بغیر پڑھے تسلیم (accept) کرکے دی ہوتی ہے۔

برطانوی پروفیسر نے مزید لکھا کہ خفیہ ایجنسیاں ایم آئی فائیو اور سی آئی اے کسی کے بھی بند ٹیلی وژن تک سے اُس کی حرکات و سکنات اور گفتگو ریکارڈ کرسکتی ہیں۔

یہی کام ایمیزون کی ڈیجیٹل اسسٹنٹ ’’الیکسا‘‘اور گوگل کے ’’نیسٹ‘‘ سے بھی لیا جاتا ہے۔

فیس بک پر شیئر کی گئی تصویر یا خیالات کا اظہار اور گوگل سرچ پر لکھے گئے الفاظ کا سارا ڈیٹا ’آن لائن یادداشت‘ میں محفوظ ہوتا رہتا ہے۔ اس میں آئی پی ایڈریس اور لوکیشن بھی شامل ہیں۔

برطانوی پارلیمنٹ کی ایک رپورٹ میں کہا جاچکا ہے کہ ’فیس بک‘ نے عوام کی زندگیوں میں “ڈجیٹل گینگسٹر” کا کردار اپنا لیا ہے۔

کورونا کے دوران دنیا کی زیادہ آبادی کا انحصار زوم جیسی ایپلی کیشن پر بڑھا۔ یعنی مزید زیادہ لوگوں کا ڈیٹا ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں