44

بش بھی لعنت بھیج گیا تھا!

تحریر۔۔۔۔انصار عباسی

وزیراعظم عمران خان میں ایک بہت بڑی خوبی ہے، وہ جو ٹھیک سمجھتے ہیں، کہہ دیتے ہیں، کسی سے ڈرتے نہیں، یہ فکر نہیں کرتے کہ میڈیا کیا کہے گا۔ ورنہ پاکستان کے کسی حکمران میں اتنی ہمت نہ ہوئی کہ وہ فحاشی کے خلاف آواز اُٹھاتا۔ ابھی چند دن پہلے ہی وزیراعظم نے پردے کے حق میں اور فحاشی کے خلاف بات کی جس پر ٹی وی چینلز، دیسی لبرلز، حتیٰ کہ سیاسی مخالف بھی اُن پر برس پڑے، جن میں مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری بھی پیش پیش تھے۔ وزیراعظم کے بیان کو وہ معنی پہنائے گئے جس کا مقصد دراصل فحاشی و عریانی کا دفاع کرنا تھا۔

خان صاحب کے اُس بیان کی تکلیف ابھی مغربی کلچر سے مرعوب طبقہ اور اُس طبقے سے متاثر کنفیوژڈ افراد بشمول چند سیاستدان، جن میں مریم نواز سرِفہرست شامل ہیں (بلاول بھٹو تو ویسے ہی کھلے ڈلے یعنی شرم و حیا کے کلچر کے حامی ہیں، اس لئے یہاں اُن کا نام نہیں لے رہا) تازہ تھی کہ وزیراعظم نے ’’روشن خیالی‘‘ اور ’’سوفٹ امیج‘‘ کے فتنہ کو بھی آڑے ہاتھ لیا۔ ہفتہ کے روز فلم فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا اگر ہمیں دنیا کو اپنا سوفٹ امیج دکھانا ہے تو اپنا اصل امیج دکھانا ہوگا، ہمیں جو ہم ہیں، اُس پر فخر کرنا ہوگا۔

خان صاحب نے کہا کہ انگریزی زبان اور لباس کا استعمال احساسِ کمتری ہے۔ دوسروں کی نقالی کرنے والوں، اپنی زبان، اپنے لباس، اپنی دینی و معاشرتی اقدار سے شرمندہ رہنے والوں کے لئے وزیراعظم کا پیغام تھا کہ جسے خود سے شرم آئے دنیا اُس کی عزت نہیں کرتی۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری کے زوال کی وجہ بھارت کی نقالی ہے، اُنہوں نے یہ بھی کہا بھارت کی نقالی کی بجائے پاکستان کی فلم انڈسٹری اپنا اصل مواد دکھائے۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ سوچ کہ پاکستان کو اپنا سوفٹ امیج پروموٹ کرنا چاہئے، 9/11کے بعد شروع ہوئی جب ہماری امریکہ کی جنگ میں شرکت کے باوجود ہمیں ہی خطرناک اور بنیاد پرست قرار دیا گیا لیکن حقیقتاً سوفٹ امیج کوئی چیز نہیں، یہ احساسِ کمتری کا نتیجہ ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ سوفٹ امیج اور روشن خیالی کے چیمپئن، عمران خان کے اِس بیان کے جواب میں کیا کہتے ہیں؟ ہو سکتا ہے ایک طبقہ خان صاحب کے ماضی میں جائے، اُن کی متنازعہ تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلائے، یہ بھی دکھائے کہ وہ خود کس طرح انگریزی لباس پہنتے تھے اور انگریز خواتین کے ساتھ گھومتے پھرتے تھے۔

کس کا کیا ماضی تھا، یہ اہم نہیں بلکہ اہم بات یہ ہے اب کون کیا بات کر رہا ہے اور خصوصاً اگر اب وہ ایک حکمران ہے اور اسلام کی بات کرتا ہے، فحاشی کے خلاف تمام تر مخالفت کے باوجود بار بار پردے کی بات کرتا ہے، نہ میڈیا سے ڈرتا ہے، نہ دیسی لبرلز اور کنفیوژڈ اپوزیشن سے، روشن خیالی اور سوفت امیج کے فتنوں کو نشانے پر رکھتا ہے تو ایسے حکمران اور ایسے رہنما کی سیاست سے بالاتر ہو کر ہم سب کو حمایت کرنی چاہئے کیونکہ یہ ہمارے خاندانی نظام، ہمارے معاشرے، ہماری اقدار اور شرم و حیا کو بچانے کے لئے بہت ضروری ہے۔

ویسے عمران خان نے جو بات کی اُسے سن کر مجھے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز کی کتاب ’’یہ خاموشی کہاں تک‘‘ میں اُس وقت کے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے پاکستان کے سوفٹ امیج اور روشن خیالی کو پروموٹ کرنے کے لئے کی گئی کوششوں کے چند حوالے یاد آئے۔

سب جانتے ہیں کہ پرویز مشرف نے بھی بےشرمی اور بےحیائی کو پاکستانی معاشرے میں خوب پروموٹ کیا، اس کے لئے ٹی وی چینلز کو خوب استعمال کیا لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ ہم نے بےشرمی اپنائی، بےحیائی کو بھی گلے لگایا، فحاشی کو فروغ دیا لیکن وہ سب کچھ کرنے باوجود ہمارا امیج خراب سے خراب تر ہوتا چلا گیا۔

ہماری مثال ’’کوا چلا ہنس کی چال، اپنی بھی بھول گیا‘‘ والی ہو گئی۔ لیفٹیننٹ جنرل(ر) شاہد عزیز لکھتے ہیں کہ اُن کی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد 2006میں جب وہ نیب میں تھے تو امریکہ کے صدر جارج بش اسلام آباد تشریف لائے۔ رات کو پریزیڈنٹ ہاؤس میں کھانا ہوا اور ایک ثقافتی پروگرام پیش کیا گیا۔

پروگرام میں پاکستان کی تہذیب دکھانے کے نام پر نیم عریاں لڑکیوں نے ناچ پیش کیے اور تہذیب کے نام پر ایک کے بعد ایک لباس غائب ہونے لگے۔ یہ سب دیکھتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل(ر) شاہد عزیز مزید لکھتے ہیں: ’’اسٹیج پر برہنہ جانوروں کی مانند بل کھاتے ہوئے اپنے مستقبل کی تصویر دیکھ کر جی چاہا شرم سے ڈوب مروں مگر حیوانیت نے میری آنکھیں بند نہ ہونے دیں۔

بچپن میں یہاں کوئی محمد بن قاسم بھی آیا تھا اور بہت سے بزرگانِ دین بھی لیکن شاید ان کا کچھ اثر باقی نہ رہا تھا‘‘۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب ہم اپنا تماشہ دکھا چکے اور بش اُٹھ کر جانے لگے تو تمام مجمع ان کے پیچھے دروازے کی طرف بڑھا۔ وہ دروازے پر پہنچ کر رک گئے پھر ہماری طرف مڑے تو سارا مجمع ٹھہر گیا۔

دانت نکال کر اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے، گھٹنے جھکا کر کولہے مٹکائے، دونوں ہاتھوں سے چٹکیاں بجائیں اور سر ہلا کر تھوڑا اور مٹک کر دکھایا، جیسے کہہ رہے ہوں ’’ہن نچو‘‘۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر)شاہد عزیز نے لکھا کہ جس کی خوشی کے لئے ہم نے اپنا قبلہ بدل لیا، اپنی تاریخ جھٹلا دی، اپنا تمدن نوچ کر پھینک دیا، وہ بھی لعنت بھیج گیا۔

رگز نیوز، رگز میڈیا گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں