34

درندہ صفت ملزم نے ننھی ماہم کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا اعتراف کرلیا

کراچی : ماہم قتل کیس میں گرفتار ملزم نے عدالت کے روبرو بچی سے زیادتی و قتل کا اعتراف کرلیا، جس کے بعد عدالت نے ملزم ذاکر کو عدالتی ریمانڈ پرجیل بھیج دیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی سٹی کورٹ میں ماہم سے زیادتی اور قتل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، ملزم ذاکرکو عدالت میں پیش کیا گیا ، دوران سماعت
پولیس کی ملزم ذاکر کی شناخت پریڈ کی درخواست پرعدالت نے اعتراض اٹھادیا۔
عدالت نے کہا کہ ملزم کاچہرہ میڈیاپرنشر ہوچکا ہے، شناخت پریڈکی درخواست قابل قبول نہیں، ملزم کا دفعہ 164 کے تحت اعترافی بیان قلمبند کیا جاسکتا ہے۔
ملزم ذاکرعرف انڈولہ نے عدالت کے روبرو جرم کا اعتراف کرلیا، جس کے بعد ملزم کے اعترافی جرم کے ابتدائی نکات سامنے آگئے، ملزم نے بیان میں کہا کہ چھ سالہ ماہم کو27جولائی کو اغوا کیا تھا، بچی کو زیادتی کے بعد خوف کی وجہ سے قتل کیا۔
عدالت نے اعتراف جرم کے بعد ملزم کو عدالتی ریمانڈ پرجیل بھیج دیا اور ملزم کی تصویر میڈیا پرنشر ہونے کے باعث شناخت پریڈ کی کارروائی موخر کردی۔
خیال رہے پولیس نے ملزم ذاکر انڈولا کے اعترافی بیان اورشناخت پریڈ کی درخواستیں دائر رکھی تھی۔
گذشتہ روز ماہم کے والد عبدالخالد نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم ذاکر ہمارے ساتھ اٹھتا بیٹھتا کھاتا پیتا تھا، نہیں معلوم تھا ہمارے درمیان درندہ صفت انسان موجود ہے۔
عبدالخالد کا کہنا تھا کہ معلوم ہوتا کہ یہ شخص جانور ہے پہلے ہی محلے سے نکال دیتے، ملزم ذاکر2 بچوں کا باپ ہے، اس کی بیٹی ماہم سےڈیڑھ سال بڑی ہے، ملزم نے گھناؤنی حرکت سے پہلے سوچنا تھا کہ اس کی بھی اپنی بیٹی ہے۔
ننھی ماہم کے والد نے اپیل کی تھی کہ ایسے ملزم کو سرعام سزائے موت ہونی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں