31

بڑے ریٹیلرز کے خلاف کارروائی کی جائے گی، لیکن کیوں؟

کراچی: ایف بی آر نے پوائنٹ آف سیلز سے رجسٹرڈ نہ ہونے والے بڑے ریٹیلرز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایف بی آر نے ملک بھر میں بڑے ریٹیلرز کی فہرست تیار کر لی، ان ریٹیلرز کو سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت ایف بی آر کے سسٹم کے ساتھ منسلک ہونا ضروری ہے، ایف بی آر نے ریٹیلرز کو 15 اگست تک کا وقت دے دیا۔
ایف بی آر سسٹم میں منسلک نہ ہونے کی صورت میں ان کا ان پٹ کلیم رجیکٹ کر دیا جائے گا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق ایف بی آر نے خودکار رسید تصدیقی نظام سے منسلک نہ ہونے والے ریٹیلرز کے ان پٹ ٹیکس کا 60 فی صد مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بڑے ریٹیلرز کو خودکار رسید تصدیقی نظام سے منسلک کرنے کے لیے ایف بی آر نے جنرل سیلز ٹیکس آرڈر نمبر 1 جاری کر دیا ہے۔
خودکار نظام کے تحت بڑے ریٹیلرز کو یکم اگست 2021 سے اس نظام کے ساتھ منسلک کرنے کا سلسلہ جاری ہے، نشان دہی کے بعد اس نظام سے منسلک نہ ہونے والے ریٹیلرز کی فہرست ایف بی آر کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کر دی گئی ہے۔
15 اگست تک خود کار نظام کے ساتھ منسلک نہ ہونے والے ریٹیلرز کے جولائی کے سیلز ٹیکس گوشواروں میں دائر کرنے والے ان پٹ ٹیکس کا 60 فی صد ادا نہیں کیا جائے گا۔
اگر کوئی ریٹیلر یہ سمجھتا ہے کہ وہ بڑے ریٹیلر کی فہرست میں نہیں آتا، تو وہ 10 اگست تک کمشنر کو درخواست دے کر فہرست سے خارج ہو سکتا ہے۔
یہ فہرست ہر ماہ اپڈیٹ کی جائے گی اور جو ریٹیلرز اس فہرست میں موجود رہیں گے، ان کے ان پٹ ٹیکس کا 60 فی صد سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 3 ذیلی شق 9 اے کے تحت مسترد کر دیا جائے گا۔
دریں اثنا، ایف بی آر کی جانب سے سرکاری کام میں مداخلت پر ڈولمین مال انتظامیہ کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے، ڈولمین مال کو 54 لاکھ روپے کا شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
ایف بی آر ٹیم شاپنگ مال میں قائم ہیلتھ مارٹ دکان کو ٹیکس عدم ادائگی پر سیل کرنے گئی تھی، لیکن ڈولمین مال انتظامیہ نے ایف بی آر کی ٹیم کے کام میں مداخلت کی اور مارٹ کو سیل کرنے سے زبر دستی روکا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں