46

ملک بھر میں کارکنوں کو روکا گیا، کہتے ہیں لوگ کدھر ہیں، کیسے آتے جب ہر طرف رکاوٹیں تھیں۔سابق وزیرداخلہ شیخ رشید

امید ہے پھر لانگ مارچ کی ضرورت نہیں ہوگی، آئندہ کچھ دنوں میں مثبت حل نکل آئے گا
کہا تھا کہ لانگ مارچ خونی ہوگا،5 افراد جاں بحق ہوئے، زمینی حقائق بدلے ہوئے ہیں، لوگوں کی آنکھوں میں خون ہے، بہترہے معاملات صلح صفائی سے طے پاجائیں، حکومتی پارٹی کی کوئی حیثیت نہیں، ایک ووٹ کی حکومت ہے، منٹ میں ختم ہوسکتی ہے۔شیخ رشید نے مزید کہا کہ مذاکرات کے لیے اور بھی سارے لوگ ہوتے ہیں، اب لوگوں کو متحرک کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، حکومت فیصلے تو انگلینڈ سے ہی لیتی رہی، لیکن وہ بھی کیا مشورہ دیں گے، نواز شریف باہمت یا بہادر ہوتے تو انہیں پاکستان ہونا چاہیے تھا، نواز شریف نے لندن سے سازش تیار کی، 14 بار فوج کے خلاف بات کی۔اگرتشدد دوطرفہ ہوتا تو نقصان زیادہ ہوسکتا تھا، امید ہے 31مئی سے پہلے معاملات حل ہوجائیں گے، اگر ایسا نہ ہوا تو منفی اثرات مرتب ہوں گے، راناثنااللہ پر لگے الزامات میں مزید اضافہ ہوگیا، راناثنااللہ کا ٹریک ریکارڈ بھی تو اچھا نہیں ہے ، اس نے ہی ملک میں دہشت پھیلائی، ملک بھر سے تشدد کے لیےپولیس فورس منگوائی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں