42

اسلام آباد:عمران خان کے بیان کے بعد کسی رپورٹ کی ضرورت نہیں، وزیر داخلہ

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کے مسلح افراد سے متعلق بیان کے بعد کسی رپورٹ کی ضرورت نہیں۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان نے سرکاری وسائل کو استعمال کیا جبکہ قوم کو تقسیم کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے وفاق پر حملہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں مسلح افراد کو روکا گیا تو انہوں نے پولیس پر فائرنگ کی۔ پولیس پر فائرنگ کے واقعات میاںوالی اور اٹک میں پیش آئے جبکہ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ نے بھی پولیس پر حملہ کیا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دھوکہ دہی سے کام لیتے ہوئے سپریم کورٹ سے حکم جاری کرایا گیا جبکہ 25 مئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے لانگ مارچ کوئی سیاسی سرگرمی نہیں تھی بلکہ واضح طور پر اسلام آباد پر حملے کی کوشش تھی۔
انہوں نے کہا کہ ڈی چوک پر 3 ،4 ہزار لوگ جمع ہو چکے تھے جن کا تعلق ایک ہی صوبے سے تھا۔ خیبر پختونخوا ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور دیگر جگہوں پر لوگوں نے قیام کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا استحصال کرتے ہوئے توہین عدالت کی گئی اور عمران خان کے بیان کے بعد کہ ہمارے ساتھ مسلح لوگ تھے کسی رپورٹ کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کئی بار کنٹینر پر کھڑے ہو کر کہا کہ اب سپریم کورٹ سے اجازت مل گئی لیکن ان کامقصد اسلام آباد میں افراتفری پھیلانا تھا۔ کابینہ نے اسلام آباد کے شہریوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کو ڈی چوک پہنچ کر پتہ چلا کہ آپ کے لوگ مسلح ہیں جبکہ پولیس کی طرف سے صرف ربڑ گولیوں اور آنسو گیس سے روکا گیا اور میری رائے میں پی ٹی آئی کی جانب سے کیا گیا معاملہ ایک کریمنل ایکٹ ہے۔
پیپلز پارٹی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ عمران خان نے اپنا بیانیہ وقت کے مطابق رکھا اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کے بیانیوں کی مدت تھوڑی ہوتی گئی۔ پہلے ایک سازش امریکہ نے کی اب قتل کی سازش ہو رہی ہے۔ انہوں نے ہائی کورٹ کا انکار کیا جب پہلے وہ ہائی کورٹ میں گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ گئے اور سپریم کورٹ نے انتظامیہ یا حکومت کو کہا کہ آپ راستے کھولیں، اسی وقت عمران خان نے کہا میں کسی کو نہیں مانتا ڈی چوک جاؤں گا اور کہا گیا امن وامان کی صوتحال خرابی ہوئی تو ذمہ دار حکومت ہو گی۔ ہم نے کہا تھا کہ عمران خان ہم تم پر جمہوری حملہ کریں گے اور ہم نے جمہوری انداز میں اپنا جمہوری حق استعمال کیا۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ نیب قانون میں کوئی ترمیم کسی غیر کے لیے نہیں کی بلکہ ترمیم عدالتوں کے فیصلوں کی بنا پر کی گئی۔ جب ایک گھنٹے میں 31 قانون منظور ہوئے ہم نے اس وقت کہا تھا یہ غلط ہے اور پارلیمنٹ کو بلڈوز کیا جا رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں اوورسیز پاکستانیوں کو پارلیمنٹ میں نمائندگی ملے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی فوری الیکشن کی بات مان بھی لیں تو کیا ای وی ایم کی تیاری ہے اور اگر اوورسیز کے ووٹ کو بھی تسلیم کریں تو اس کے بھی ٹولز نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں