9

پنجاب کا بجٹ پیش تو نہ ہوا،رگز نیوز نے بجٹ کی کاپی حاصل کر لی

پنجاب میں مالی سال 2022-23 کے بجٹ کی تقریر کا مسودہ سامنے آگیا، بجٹ تقریر کل 25 صفحات پر مشتمل ہے، متن کی کاپی رگز نیوز نے حاصل کرلی
آئندہ مالی سال کیلئے پنجاب کے بجٹ کا حجم 3236 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ بجٹ میں کل آمدنی کا تخمینہ 2521 ارب سے زائد لگایا گیا ہے ۔ وفاق سے 2020 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ صوبائی محصولات کی مد میں 24 فیصد اضافے کیساتھ500 ارب سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔آئندہ مالی سال سیلز ٹیکس آف سروسز پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا ، چھوٹے کاروبار کی سہولت کیلئے سیلز آن سروسز میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا ۔
بجٹ تقریر کے مطابق مزدور کی تنخواہ 20سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ میں مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے خصوصی الاؤنس تجویز کیا گیا ہے۔ بجٹ میں گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 15فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
اسٹیمپ ڈیوٹی کی شرح ایک فیصد سے بڑھا کر دو فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ، پرتعیش گھروں کے اوپر فنانس ایکٹ 2014 میں تبدیلی کرکے نئے ریٹس متعارف کروائے جارہے ہیں ۔بجٹ کے مجموعی حجم میں سے 1712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، بجٹ میں وزیر اعظم عوامی سہولت پیکج کیلئے 200ارب روپے رکھے جارہے ہیں ، سستا آٹا سکیم کے تحت 10 کلو آٹے کا تھیلا 490 روپے میں دستیاب ہوگا۔

بجٹ تقریر کے مطابق مزدور کی تنخواہ 20سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ میں مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے خصوصی الاؤنس تجویز کیا گیا ہے۔ بجٹ میں گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 15فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

اسٹیمپ ڈیوٹی کی شرح ایک فیصد سے بڑھا کر دو فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ، پرتعیش گھروں کے اوپر فنانس ایکٹ 2014 میں تبدیلی کرکے نئے ریٹس متعارف کروائے جارہے ہیں ۔بجٹ کے مجموعی حجم میں سے 1712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، بجٹ میں وزیر اعظم عوامی سہولت پیکج کیلئے 200ارب روپے رکھے جارہے ہیں ، سستا آٹا سکیم کے تحت 10 کلو آٹے کا تھیلا 490 روپے میں دستیاب ہوگا۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں685 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے تجویز کیے گئے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ کا 40 فیصد سوشل سیکٹر، 24 فیصد انفراسٹرکچر، 6 فیصد پروڈکشن سیکٹر اور 2 فیصد سروسز سیکٹر پر مشتمل ہے۔ترقیاتی بجٹ میں دیگر پروگرامز اور خصوصی اقدامات کیلئے 28 فیصد فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ میں پہلے سے جاری سکیموں کیلئے 365 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جب کہ نئی سکیموں کیلئے 234 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں ، 41 ارب روپے دیگر ترقیاتی اسکیموں کی مد میں مختص کئے جا رہے ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی مد میں 45 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

بجٹ میں شعبہ صحت پر 485 ارب 26 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے ، شعبہ تعلیم کیلئے مختص کردہ مجموعی بجٹ میں 428 ارب 56 کروڑ روپے تجویز کیا جا رہاہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 1,712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں تجویز کئے گئے ہیں جو پچھلے سال سے 20 فیصد زیادہ ہیں۔حکومت نے وزیراعلیٰ عوامی سہولت پیکج کے تحت 200 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے ۔ صحت کارڈ کے لئے 125 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے جو گزشتہ سال 60 ارب روپے تھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں