42

‘ایس بی سی اے افسران پیسے بنارہے ہیں، عمارت بننے دیتے ہیں پھر واویلا کرتے ہیں’

کراچی کےعلاقے لیاقت آباد میں 5 منزلہ غیرقانونی عمارت بنانےکےخلاف درخواست پر سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔دوران سماعت عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیےکہ معلوم ہے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کرکیا رہی ہے؟عمارتیں گر رہی ہیں، ایس بی سی اے افسران پیسے بنا رہے ہیں، پہلے عمارت بننے دیتے ہیں پھر واویلا کرتے ہیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ایک ایک پورشن 60، 70 لاکھ کا بیچا جاتا ہے،کوئی اعدادو شمار ہیں کہ شہر میں کتنی غیر قانونی عمارتیں ہیں ؟ سندھ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہو رمضان المبارک میں عمارتیں توڑنے کے احکامات جاری کریں،بتایا جائے، غیر قانونی عمارتیں گرانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ عدالت نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے اس حوالے سے وضاحت طلب کرلی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں