35

نوجوان شاعرہ اور مصنفہ کرن وقارکورونا کے باعث انتقال کرگئیں

رپورٹ کے مطابق کرن وقار نے 31 مارچ کو اپنی اور اپنے بھائی کی طبیعت کی خرابی کا ذکر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ وہ اور ان کا بھائی اوکاڑہ کے ڈی ایچ کیو اسپتال میں زیرِ علاج ہیں مگر یہاں آکسیجن ہے نہ کوئی دیکھ بھال، کوئی بتائےکہ کورونا کےعلاج کے لیےکس اسپتال میں جانا بہتر ہے۔ڈی ایچ کیو اوکاڑہ کی انکوائری رپورٹ کے مطابق کرن وقار کی والدہ گردوں کے عارضے کے باعث نجی اسپتال میں زیرِ علاج تھیں، والدہ کی تیمارداری کے دوران دونوں بہن بھائی بھی کورونا میں مبتلا ہو گئے۔
دونوں ڈی ایچ کیو اسپتال اوکاڑہ میں داخل ہوئے، کرن وقار اور ان کے بھائی کو 30 لیٹر آکسیجن پریشر کی ضرورت تھی تاہم اسپتال کے پاس صرف 15لیٹرپریشر کی گنجائش ہے۔جس پر دونوں بہن بھائیوں کو 25 گھنٹے بعدلاہورکےعلاقےسندر میں واقع ایک نجی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا، جہاں پہلے ان کے بھائی زوہیب علی اور چند دن بعد کرن وقار جاں بحق ہو گئیں۔کرن وقار کی شیر خوار بیٹی ہمیشہ کے لیے ماں کی محبت سے محروم ہوگئی،متاثرہ خاندان نے نجی اسپتال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں